حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ کراچی میں گورنر ہاؤس، پشاور اور لاہور میں احتجاجی دھرنے جاری ہیں، عوام گرمی میں شوق سے نہیں بلکہ اپنے حقوق کے لیے بیٹھے ہیں۔ جن لوگوں کو پیٹرول مفت ملتا ہے وہ عام آدمی کے دکھ کو نہیں سمجھ سکتے کہ گھر کا کرایہ اور روزمرہ اخراجات کیسے پورے کرنے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صرف پیٹرول کی قیمت نہیں بڑھاتی بلکہ عوام پر مزید ٹیکسز بھی عائد کیے جاتے ہیں۔ شہباز شریف اور مریم نواز سے کہتا ہوں کہ اپنے وزرا کو پڑھنا لکھنا سکھائیں اور انہیں کم از کم یہ بتائیں کہ عوام کن مشکلات سے گزر رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے جاگیردارانہ نظام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ن لیگ کے جاگیرداروں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے کتنا ٹیکس ادا کیا۔ ٹیکس طلبہ اور عام عوام سے وصول کیا جاتا ہے، جاگیرداری کا یہ نظام نہیں چلے گا۔

حافظ نعیم الرحمان نے دعویٰ کیا کہ بڑے جاگیردار اور بااثر طبقات ٹیکس ادا نہیں کرتے جبکہ عام عوام اور مڈل کلاس پر ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔ عوام کے حقوق کے لیے جدوجہد کا آغاز کردیا ہے اور حکومت کے گھٹنے ٹیکنے تک دھرنا جاری رہے گا۔

انہوں نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ مایوس نہ ہوں اور کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ حکومتی پالیسیوں کے خلاف جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ ملک میں گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، فارم 47 والا نظام عوام کو قبول نہیں۔ جب تک اس نظام کو جڑ سے نہیں اکھاڑیں گے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کی کمیٹی سے کوئی بریفنگ نہیں لیں گے، اگر حکومت نے بات کرنی ہے تو دھرنے کے شرکا کے پاس آکر بات کرے۔ پیٹرول کی قیمت ہر صورت 225 روپے فی لیٹر کرنا ہوگی۔

سی ایم ہاؤس کے باہر دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی ہے، گڈز ٹرانسپورٹرز بھی اس وقت ہڑتال پر ہیں، حکومت نے عوام کو ریلیف دینے کے بجائے حالات کا فائدہ اٹھا کر انہیں لوٹنا شروع کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے اربوں روپے پیٹرولیم لیوی کی مد میں عوام کی جیبوں سے وصول کیے، عوام پریشان ہیں لیکن حکمران طبقہ پریشان نہیں، چند ہزار ڈیلرز کی بات ماننے کے بجائے 25 کروڑ عوام کی آواز سنی جائے۔

حافظ نعیم الرحمان نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکمران فارم 47 کی وجہ سے ہم پر مسلط ہوئے ہیں اور عوام کو کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔ آئی ایم ایف کے پروگراموں سے پہلے بھی عوام کو ریلیف نہیں ملا اور اب بھی نہیں ملا، یہ ملک کو غلام ابن غلام بنا رہے ہیں۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکمران ملک کے ڈیفالٹ ہونے کی بات کرتے ہیں، اگر ملک ڈیفالٹ کرتا ہے تو حکمران اپنے قرضے بھی ساتھ لے کر جائیں۔ عوام آئی ایم ایف کے بغیر چل سکتے ہیں لیکن مریم نواز، شہباز شریف اور نواز شریف نہیں چل سکتے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پورے پاکستان میں لوگ اپنے حق کے لیے نکل رہے ہیں اور جماعت اسلامی نے 510 مقامات بند کرکے ثابت کردیا کہ وہ سنجیدہ تحریک چلانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں سے بھی بڑی تحریک شروع کرنے جارہے ہیں اور نوجوان بھرپور طریقے سے سڑکوں پر موجود ہیں۔ یہ دھرنا صرف ابتدا ہے، ابھی طویل جدوجہد شروع کرنی ہے، جماعت اسلامی جب کوئی تحریک شروع کرتی ہے تو پھر پورا حساب لے کر جاتی ہے۔

حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی کو مسترد کرتے ہیں، اگر حکومت نے بات کرنی ہے تو دھرنے کے شرکاء سے براہِ راست بات کرے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس اور لیوی ختم کرنا ہوگی اور پیٹرول کی اصل قیمت 225 روپے مقرر کرنا ہوگی۔

امیر جماعت اسلامی نے مزید کہا کہ جماعت اسلامی کسی ایک سیاسی جماعت کے خلاف نہیں بلکہ عوام کے حقوق کے لیے حکومت کے خلاف جدوجہد کررہی ہے، حکومت کے گھٹنے ٹیکنے تک دھرنا جاری رہے گا۔