تفصیلات کے مطابق اس مالی امداد کا مقصد حالیہ 55 روپے فی لیٹر اضافے کے اثرات کو کم کرنا ہے، جس کے تحت تقریباً 15 لاکھ رجسٹرڈ موٹر سائیکل مالکان کو 40 لیٹر پیٹرول کے مساوی ریلیف فراہم کیا جائے گا۔ یہ سبسڈی دو مراحل میں دی جائے گی، پہلی قسط کے طور پر 1100 روپے فوری طور پر منتقل کیے جائیں گے، جب کہ باقی 1100 روپے دوسری قسط میں ادا کیے جائیں گے۔
عمران خان کے وژن کے مطابق وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کا صوبے کے تمام موٹرسائیکل سواروں کے لیے سبسڈی دینے کا اعلان
— Government of KP (@GovernmentKP) March 8, 2026
حکومت خیبر پختونخوا نے پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کم کرنے کے لیے موٹرسائیکل سواروں کو سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ pic.twitter.com/ZMn0XBzCvU
مشیر خزانہ مزمل اسلم کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ آفریدی نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر معاشی بم اور ظلم قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اپنے شہریوں کو عالمی سپلائی میں تعطل اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے پرعزم ہے۔ اس سبسڈی کے علاوہ پشاور بی آر ٹی اور دیگر پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ نہ کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جو پارٹیاں ماضی میں 12 روپے کے اضافے کو پیٹرول بم قرار دیتی تھیں، آج وہی عوام پر 55 روپے فی لیٹر کا بوجھ ڈال رہی ہیں۔
انہوں نے پنجاب حکومت کی جانب سے 11 ارب روپے مالیت کا لگژری طیارہ خریدنے کے فیصلے کو ترجیحات کا غلط تعین قرار دیا اور بتایا کہ خیبرپختونخوا حکومت نے وزرا کی تنخواہوں میں اضافے اور نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگا کر اخراجات میں کمی کی ہے۔
انہوں نے ایندھن کی مؤثر نگرانی کے لیے خصوصی پیٹرول مانیٹرنگ ڈیش بورڈ کے قیام کا بھی ذکر کیا، جو پیٹرول پمپوں پر سپلائی اور ذخیرہ اندوزی کی ریئل ٹائم نگرانی کرے گا تاکہ مصنوعی قلت کو روکا جا سکے۔
خواتین کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعلیٰ نے بی آر ٹی نیٹ ورک میں خواتین کے لیے مخصوص ’پنک بسیں‘ چلانے اور گندم کی کٹائی کے سیزن کے لیے کسانوں کے لیے خصوصی ریلیف پیکج دینے کا بھی اعلان کیا۔
اس موقع پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے ٹیکسوں کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کو 86 روپے سے بڑھا کر 105 روپے کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت نے رواں مالی سال کے پہلے سات ماہ میں پیٹرولیم لیوی کی مد میں 822 ارب روپے جمع کیے ہیں اور سال کے اختتام تک یہ رقم 1700 ارب روپے تک پہنچنے کی توقع ہے۔






