حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ "ونڈے بوائے کے ساتھ اب ونڈر لیڈی بھی میدان میں آگئی ہیں"، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی محاذ ہر سطح پر سرگرم ہے۔ ان کے مطابق، قابض خاندان اپنی چوتھی نسل کو اقتدار کے لیے تیار کر چکے ہیں، جس کا مقصد ملک میں جمہوری عمل کو محدود کرنا ہے۔

انہوں نے برین ڈرین پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اسے ترسیلات زر کا موقع سمجھ لیا ہے، جبکہ اصل مقصد ملک کے نوجوانوں کے ہنر کو بروئے کار لانا ہونا چاہیے،اس موقع پر کہا کہ اپنے ٹیلینٹ کو بیرون ملک ایکسپورٹ کرنا ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔

مزید پڑھیں: بشریٰ بی بی نے بتایا ڈاکٹروں نے پروسیجر تجویز کیا ورنہ عمران خان کی آنکھ ضائع ہونے کا خدشہ تھا، بیرسٹرگوہر

انہوں نے گورننس کے نام پر جاری اداکاریوں پر بھی تنقید کی اور کہا کہ "اداروں کو تباہ کرنے والے ہی اب ان کے بیچنے پر خوشیاں منا رہے ہیں،سندھ کے سی ایم کو بھی قابض ہی تسلیم کیا جائے، اور اقتدار کا قبضہ عوام کے ہاتھوں واپس لیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ دھرنے کو روکنے کی کوشش سندھ حکومت کے بس کی بات نہیں، اور سب جانتے ہیں کہ حکومت کی محدود طاقت کے باعث سیاسی احتجاج جاری رہے گا۔ علاوہ ازیں، انہوں نے بلدیاتی انتخابات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ "کسی بھی حکومت کو ان پر توجہ نہیں ہے، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے"۔

انہوں  نے اختتامیہ میں کہا کہ ملک میں جمہوری اداروں کی مضبوطی، نوجوانوں کے ہنر کا تحفظ، اور سیاسی شفافیت کے لیے عوام کو متحد رہنا ہوگا تاکہ حقیقی تبدیلی ممکن ہو سکے۔