اجلاس عرب جمہوریہ مصر کی دعوت پر منعقد ہوا، جہاں وزرائے خارجہ نے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی قیادت اور مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے ان کے وژن کو سراہا۔

اجلاس کے دوران مشرقِ وسطیٰ اور خطے کی مجموعی صورتحال، اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد اور باہمی تعاون کے ترجیحی شعبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔ وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خطے کو درپیش مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مسلسل سفارتی رابطے، مکالمے اور علاقائی ہم آہنگی ناگزیر ہیں۔

مشترکہ اعلامیے میں 18 جون 2026 کو امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے خاتمے کی جانب ایک اہم اور مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اس پیش رفت سے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت اور علاقائی سلامتی کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔

وزرائے خارجہ نے ان تمام علاقائی اور بین الاقوامی کوششوں کو سراہا جنہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کی راہ ہموار کی، جب کہ متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ اپنے کیے گئے وعدوں پر دیانت داری کے ساتھ عمل درآمد یقینی بنائیں۔

اعلامیے میں اس تاریخی پیش رفت کے حصول میں پاکستان کے کلیدی سفارتی کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا گیا کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اہم کاوشوں نے مذاکرات کو کامیاب بنانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ چاروں ممالک نے اس اہم معاملے پر پاکستان کے ساتھ مسلسل اور قریبی رابطہ کاری کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔

وزرائے خارجہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ موجودہ مثبت ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کے اگلے مرحلے کو جلد اور کامیابی سے مکمل کیا جائے تاکہ باقی ماندہ تمام معاملات کا پائیدار، قابلِ تصدیق اور باہمی طور پر قابلِ قبول حل نکالا جا سکے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ مستقبل کے کسی بھی معاہدے میں خطے کے ممالک، خصوصاً خلیجی عرب ریاستوں اور لیونٹ کے ممالک کی سلامتی اور استحکام سے متعلق خدشات کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے تاکہ اجتماعی سلامتی کو مضبوط بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا استحکام قائم ہو۔

اجلاس میں فلسطین کے مسئلے کو مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے بنیادی حیثیت دیتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ خطے میں منصفانہ، جامع اور دیرپا امن کے قیام کے لیے ناگزیر ہے۔

وزرائے خارجہ نے غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ مشرقی یروشلم کی انسانی اور سیاسی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔

اعلامیے میں 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق مشرقی یروشلم کو دارالحکومت بناتے ہوئے ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے بنیادی شرط قرار دیا گیا۔

اجلاس کے اختتام پر چاروں ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان، مصر، سعودی عرب اور ترکیہ خطے میں امن، سلامتی، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنے باہمی تعاون، سفارتی رابطوں اور مشاورت کو مزید مضبوط بنائیں گے۔