ذرائع کے مطابق اجلاس کی صدارت سینیٹر فاروق ایچ نائیک اور محمود بشیر ورک کر رہے ہیں۔ اجلاس میں سینیٹر طاہر خلیل سندھو، ہدایت اللہ، شہادت اعوان، ضمیر حسین گھمرو، علی حیدر گیلانی، سائرہ افضل تارڑ، بلال اظہر کیانی، سید نوید قمر اور ابرار شاہ شریک ہیں۔ سیکرٹری وزارت قانون و انصاف راجا نعیم اکبر سمیت دیگر افسران بھی اجلاس میں موجود ہیں۔

اجلاس سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ ہر جماعت کو اپنی رائے دینے کا حق حاصل ہے، آج تمام جماعتوں کی آرا پر غور کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی کی جانب سے اکثریتی رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے گا اور تمام نکات کو ایوان میں پیش کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ شام 5 بجے تک آئینی ترمیم کے نکات کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔

مزید پڑھیں: سینیٹ اجلاس؛  ایسی کوئی بھی ترمیم نہیں لانی چاہیے، جس پر مکمل اتفاق موجود نہ ہو 

دوسری جانب جے یو آئی کے ترجمان اسلم غوری نے کمیٹی سے اپنی جماعت کے رکن کامران مرتضیٰ کو نکالنے پر شدید احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی سے کامران مرتضیٰ کا نام اختلاف کے اندیشے پر نکالا گیا، جو آمریت کی بدترین مثال ہے۔ حکومت کمیٹی کو مسلم لیگ (ن) کی جاگیر نہ سمجھے، یہ پارلیمنٹ کی پراپرٹی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ جمہوریت کے نام پر آمریت کو فروغ دیا جا رہا ہے اور جمہوری نظام کو لپیٹنے کی سازش کی جا رہی ہے۔