بجٹ دستاویزات کے مطابق قومی اسمبلی کے ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر اخراجات کی مد میں 17 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔

آئندہ مالی سال اس مقصد کے لیے 17 ارب روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جب کہ رواں مالی سال اس مد میں 16 ارب 29 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے گئے تھے۔

دستاویزات کے مطابق ارکان اسمبلی کی تنخواہوں اور مراعات کیلئے بھی اضافی فنڈز رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس مد میں 27 کروڑ روپے سے زائد اضافے کی سفارش کی گئی ہے، جس کے بعد آئندہ مالی سال کے لیے 5 ارب 35 کروڑ روپے سے زائد مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ رواں مالی سال اس مقصد کے لیے 5 ارب 8 کروڑ روپے سے زائد مختص تھے۔

بجٹ تجاویز میں اسپیکر، ڈپٹی اسپیکر اور ان کے عملے کی تنخواہوں اور انتظامی اخراجات کیلئے 39 کروڑ 34 لاکھ روپے سے زائد رکھنے کی سفارش بھی شامل ہے۔

اسی طرح اپوزیشن لیڈر اور متعلقہ عملے کی تنخواہوں اور اخراجات کی مد میں 83 کروڑ 47 لاکھ روپے سے زائد مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق یہ تمام تجاویز آئندہ مالی سال کے سرکاری اخراجات کا حصہ ہیں، تاہم ان کی حتمی منظوری پارلیمان سے حاصل کی جائے گی۔