ذرائع کا کہنا ہے کہ کنسورشیم نے قومی ائیرلائن اور نجکاری کمیشن سے یومیہ بنیادوں پر ریکارڈ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ تمام کنسورشیم 23 دسمبر کو ہونے والی بولی میں اپنی پیش کش جمع کرائیں گے۔
ذرائع کے مطابق کنسورشیم کو قومی ائیرلائن کے موجودہ اور ریٹائرڈ ملازمین، ملکی اور بین الاقوامی روٹس کی مکمل تفصیلات فراہم کر دی گئی ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن پی آئی اے خریدنے والے کنسورشیم کی ذمہ داری نہیں ہو گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے قومی ائیرلائن انتظامیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ چاروں کنسورشیم کو درکار تمام تفصیلات فراہم کی جائیں اور نجکاری کے عمل میں مکمل تعاون کیا جائے۔
ذرائع کے مطابق سب سے زیادہ بولی لگانے والے کنسورشیم کو پی آئی اے حوالے کی جائے گی۔ اس وقت قومی ائیرلائن کے پاس 34 طیارے ہیں، جب کہ 90 سے زائد ملکی اور بین الاقوامی روٹس پر پروازیں آپریٹ کی جا رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: سڈنی واقعہ اور انڈین میڈیا کا پروپیگنڈا
ذرائع کا کہنا ہے کہ کنسورشیم کو پی آئی اے کے ملازمین کا مکمل ریکارڈ، ملکی و بین الاقوامی پروازوں کی یومیہ اور ماہانہ آمدن سمیت دیگر مالی و انتظامی تفصیلات بھی فراہم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ پائلٹس، ایئرکرافٹ انجینئرز، فضائی میزبانوں اور گراؤنڈ اسٹاف کی مکمل معلومات بھی کنسورشیم کے حوالے کی گئی ہیں۔
پی آئی اے کی اعلیٰ انتظامیہ میں شامل ڈائریکٹرز، جنرل منیجرز، منیجرز اور دیگر افسران کے ساتھ کراچی، لاہور، اسلام آباد اور بیرون ملک اسٹیشنز پر تعینات عملے اور ریٹائرڈ ملازمین کی تفصیلات بھی چاروں کنسورشیم کو فراہم کی گئی ہیں۔
ذرائع نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن پی آئی اے خریدنے والے کنسورشیم کے ذمے نہیں ہو گی۔
وزیراعظم سیکرٹریٹ کی جانب سے بھی پی آئی اے کی خریداری کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے کے لیے مکمل تعاون کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پی آئی اے کی نجکاری کے لیے شفاف عمل کے تحت بولی کے عمل کو میڈیا پر براہ راست نشر کیا جائے گا۔






