اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آئین اور قوانین میں جو بھی دفعات درج ہوں، اگر ہمارے رویے درست نہیں ہوں گے تو اس کا عملی فائدہ نہیں ہوگا۔ انہوں نے زور دیا کہ بلدیاتی اداروں کو مکمل اختیارات دیے بغیر مضبوط نظام قائم کرنا ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے یاد دلایا کہ 27ویں آئینی ترمیم کے دوران وزیراعظم نے انہیں ہدایت کی تھی کہ ایم کیو ایم کی طرف سے بلدیاتی نظام پر پیش کیے گئے مسودے پر تیار جماعتوں کے ساتھ بیٹھ کر بات کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ قومی ڈائیلاگ کے ذریعے بلدیاتی اداروں کو اختیارات کی منتقلی پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکتا ہے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 18ویں آئینی ترمیم سے پہلے اور بعد میں صوبوں اور وفاق کے تعلقات موجود ہیں، لیکن حقیقی اختیارات کی منتقلی صرف اسی صورت ممکن ہے جب بلدیاتی اداروں کو عملی طور پر اختیارات دیے جائیں۔
مزید پڑھیں: جمعرات تک محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر نامزد ہوں گے، بیرسٹر گوہر
انہوں نے زور دیا کہ ملک کے عوام کی بہتری اور جمہوریت کے پائیدار فوائد کے لیے کھلے ذہن کے ساتھ قومی ڈائیلاگ کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بھلائی اسی میں مضمر ہے کہ مقامی حکومتیں مضبوط ہوں اور شہری سطح پر فیصلہ سازی میں عوام کی شمولیت ممکن ہو۔
انہوں نے مزید کہا کہ بااختیار بلدیاتی نظام نہ صرف مقامی مسائل کے حل میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ وفاق اور صوبوں کے درمیان تعلقات میں بھی توازن پیدا کرے گا، جس سے ملک میں سیاسی استحکام اور ترقی کے مواقع بڑھیں گے۔
وفاقی وزیر قانون نے عوامی شمولیت اور مقامی حکومتوں کی مضبوطی کو جمہوریت کی کامیابی کے لیے ضروری قرار دیا اور کہا کہ اس مقصد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر قومی ڈائیلاگ میں حصہ لینا چاہیے۔







