سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے تفصیلی بیان میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اور ان کی اہلیہ بشریٰ بیگم کو جنرل عاصم منیر کے حکم پر جھوٹے مقدمات میں رکھا گیا ہے اور شدید ذہنی دباؤ کا سامنا ہے۔
عمران خان کے مطابق انہیں مکمل قیدِ تنہائی میں رکھا گیا ہے جہاں چار ہفتوں تک کسی انسان سے ملاقات نہیں ہوئی اور انہیں بیرونی دنیا سے بے خبر رکھا گیا۔
عمران خان نے کہا کہ ہائی کورٹ کے احکامات کے باوجود پہلے سیاسی ساتھیوں اور بعد ازاں وکلا اور اہلِ خانہ سے ملاقات بھی روک دی گئی ہے۔ ان کے بقول ذہنی دباؤ بھی ٹارچر تصور ہوتا ہے اور یہ جسمانی اذیت سے زیادہ سنگین عمل ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ ان کی ہمشیرہ نورین نیازی کو اس وقت گھسیٹا گیا جب وہ اپنے بھائی سے ملاقات کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ عمران خان نے کہا کہ ڈاکٹر یاسمین راشد جیسی بزرگ اور کینسر سروائیور رہنما کو بھی سیاسی انتقام کی غرض سے قید رکھا گیا ہے۔
ان کے مطابق بشریٰ بیگم کو صرف ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے قید کیا گیا ہے اور انہیں اپنے بچوں سے ملنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔
پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین کا کہنا تھا کہ وہ قید تنہائی ’قوم کے لیے‘ برداشت کر رہے ہیں، لیکن جب تک عوام غلامی کی زنجیریں نہیں توڑیں گے، ملک پر مسلط مختلف مافیاز عوام کا استحصال کرتے رہیں گے۔
ان کے مطابق ایکسٹینشن مافیا، لینڈ مافیا، چینی مافیا اور مینڈیٹ چور مافیا عوام کو تب تک غلام رکھیں گے جب تک معاشرہ اس کے خلاف کھڑا نہیں ہوتا۔
عمران خان نے پارٹی اراکین کو خبردار کیا کہ وکٹ کے دونوں جانب کھیلنے والوں کی تحریک انصاف میں کوئی جگہ نہیں ہے۔
انہوں نے این ڈی یو ورکشاپ میں پی ٹی آئی رہنماؤں کی شرکت کو شرمناک قرار دیا اور کہا کہ ایسے اقدامات ان کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہیں۔
عمران خان نے کہا کہ اپنے لوگوں پر ڈرون حملے اور ملٹری آپریشنز سے دہشت گردی میں اضافہ ہوتا ہے اور ان کے مطابق جنرل عاصم منیر کی پالیسیاں ملک کے لیے ’تباہ کن‘ ثابت ہو رہی ہیں۔
ان کا دعویٰ تھا کہ افغانستان کے ساتھ تناؤ جان بوجھ کر بڑھایا گیا، افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے اور مبینہ ڈرون حملوں کے اثرات پاکستان میں دہشت گردی بڑھنے کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کے مزاحمتی مؤقف کی وہ مکمل حمایت کرتے ہیں اور اس ماحول میں ان کا کردار قابلِ تعریف ہے۔
عمران خان نے کہا کہ اگر گورنر راج لگانا ہے تو آج ہی لگا دیں اور پھر دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس ان کے نزدیک انتہائی محترم ہیں اور حیرت ہے کہ ان کا اپوزیشن لیڈر کا نوٹیفکیشن ابھی تک جاری نہیں ہوا۔
عمران خان نے تحریک انصاف کی پارلیمانی جماعت کو ہدایت کی کہ اس معاملے پر ایوان میں بھرپور احتجاج کیا جائے۔
”تحریک انصاف کی پولیٹیکل کمیٹی میں آج ختم کر رہا ہوں- پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کے پاس مکمل اختیارات ہیں، وہ ایک نئی مختصر کمیٹی بنائیں جو سیاسی حکمت عملی وضع کرے اور اس پر عملدرآمد کروائے-
— Imran Khan (@ImranKhanPTI) December 2, 2025
شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کا پارلیمانی لیڈر نامزد کرتا ہوں۔…
عمران خان نے اعلان کیا کہ تحریک انصاف کی موجودہ پولیٹیکل کمیٹی کو تحلیل کیا جا رہا ہے اور نئے اختیارات پارٹی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ کو دیے گئے ہیں، جو مختصر نئی کمیٹی تشکیل دیں گے۔ انہوں نے شاہد خٹک کو قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کا پارلیمانی لیڈر نامزد کیا۔
انہوں نے ہدایت کی کہ پاکستان بار کے انتخابات میں وہ امیدوار جنہیں سلمان اکرم راجہ اور حامد خان نامزد کریں، تحریک انصاف متحد ہو کر ان کی حمایت کرے۔ خیبر پختونخوا میں وکلا اور بارز کے معاملات کا جائزہ لینے اور فیصلے کرنے کا اختیار سہیل آفریدی کو دیا گیا ہے۔
آخر میں عمران خان نے زرعی شعبے کی صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کسانوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے، جو انتہائی افسوسناک ہے۔







