کچے کے علاقے میں جاری آپریشن سے متعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے بتایا کہ اس علاقے میں ریاستی رٹ بحال کرنے کے لیے ایک جامع اور ملٹی ایجنسی آپریشن کیا گیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی میں پولیس، کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی)، پاکستان آرمی، رینجرز، انٹیلیجنس اداروں اور دیگر متعلقہ محکموں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا۔

وزیراعلیٰ نے آپریشن میں شریک اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور، چیف سیکرٹری پنجاب، ایڈیشنل آئی جی ساؤتھ پنجاب کامران، اور سی ٹی ڈی کے سربراہ وسیم سیال کی خدمات کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

انہوں نے بتایا کہ کارروائی کے دوران کوئی جانی نقصان نہیں ہوا اور علاقے میں ریاستی عملداری مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 500 سے زائد ملزمان نے ہتھیار ڈال کر ریاست کے سامنے سرنڈر کیا، جس کے بعد علاقے میں خوف کی فضا کا خاتمہ ہوا۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ آپریشن کی کامیابی میں جدید ٹیکنالوجی، نئے آلات اور مؤثر انٹیلیجنس معلومات کا اہم کردار رہا۔ سرحدی علاقوں میں پہلی بار خواتین اہلکاروں کی بھرتی بھی کی گئی، جنہیں تربیت اور جدید سازوسامان فراہم کیا گیا ہے تاکہ وہ انسدادِ دہشت گردی اور جرائم کے تدارک میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔

وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ مربوط حکمت عملی اور اداروں کے باہمی تعاون کے باعث یہ آپریشن کامیاب رہا اور اب متعلقہ علاقہ مکمل طور پر قانون کے دائرے میں آ چکا ہے۔