ضلعی انتظامیہ کے مطابق راول ڈیم کے سپل ویز ہفتہ کی صبح 6 بجے اسسٹنٹ کمشنر سیکرٹریٹ کی نگرانی میں کھولے گئے تھے تاکہ ڈیم میں جمع ہونے والے اضافی پانی کا محفوظ طریقے سے اخراج کیا جا سکے اور پانی کی سطح کو خطرے کی حد سے بڑھنے سے روکا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ڈیم میں پانی کی سطح مقررہ حد 1747 فٹ تک پہنچنے کے بعد سپل ویز کھولنے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں اضافی پانی کا اخراج جاری رہا۔ تقریباً ساڑھے 5 گھنٹے تک سپل ویز کھلے رہنے کے بعد جب پانی کی سطح کنٹرول میں آ گئی تو انہیں دوبارہ بند کر دیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق سپل ویز کھولنے سے قبل تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ کر دیا گیا تھا اور ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی انتظامات مکمل کیے گئے تھے۔ ریسکیو 1122، پولیس، ضلعی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ محکموں کے اہلکار مسلسل موقع پر موجود رہے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے فوری نمٹا جا سکے۔
حکام نے بتایا کہ سپل ویز کھولنے کے دوران شہریوں کی حفاظت کے لیے خصوصی نگرانی کی گئی۔ اس دوران حفاظتی ہدایات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نالے میں نہانے والے ایک شخص کو پولیس نے حراست میں لے لیا، تاکہ کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
مزید پڑھیں: اسکردو: براڈ پیک پربرفانی تودہ گرنے سے لاپتہ کوہ پیماؤں میں سے 8 کی لاشیں مل گئیں، 2 کی تلاش جاری
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم میں ڈیموں، ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں کے قریب خطرات بڑھ جاتے ہیں، اس لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ انتظامیہ کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں اور پانی کے بہاؤ والے علاقوں میں غیر ضروری جانے سے گریز کریں۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق راول ڈیم کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور پانی کی سطح میں کسی بھی تبدیلی کی صورت میں فوری اقدامات کیے جائیں گے۔ حکام نے شہریوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ عوامی تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گئے ہیں۔







