نجی اخبار کے مطابق پولیس نے بتایا کہ ملزم کی شناخت عارف چٹھہ کے نام سے ہوئی ہے، جو ملتان کا رہائشی ہے۔ حکام کے مطابق علیمہ خان کے قریب اس شخص کی موجودگی کو سیکیورٹی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعے کے بعد پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں قریشی کو طلب کیا گیا تاکہ ملزم کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے، تاہم انہوں نے بتایا کہ وہ گرفتار شخص کو نہیں پہچانتے۔

پولیس حکام کے مطابق عارف چٹھہ کے محرکات اور کسی ممکنہ تعلق کا تعین کرنے کے لیے تفتیش جاری ہے، جب کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب، علیمہ خان نے راولپنڈی احتجاج کیس میں اپنے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری کی تعمیل کر لی ہے۔ یہ وارنٹ 26 نومبر 2024 کو راولپنڈی میں ہونے والے احتجاج کے سلسلے میں صادق آباد پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے میں جاری کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: مشال یوسفزئی کے خلاف آٹھ فروری کے بعد سخت کارروائی کا فیصلہ کیا ہے، سلمان اکرم راجا

علیمہ خان نے ماربل فیکٹری پولیس چوکی پر عدالتی حکم کی تعمیل کی، جہاں انہوں نے وارنٹ گرفتاری پر عمل درآمد کی تصدیق سے متعلق دستاویزات پر دستخط کیے۔

واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی عدالت (اے ٹی سی) نے علیمہ خان کی عدم حاضری پر ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیا تھا، جب کہ ایک روز قبل عدالت نے ان کی ایک دن کی استثنیٰ کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی۔

اے ٹی سی نے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس، راول ڈویژن کو علیمہ خان کی گرفتاری اور عدالت میں پیشی یقینی بنانے کی ہدایت دی تھی۔ وارنٹ کی تعمیل کے بعد علیمہ خان کی بدھ کے روز عدالت میں پیشی متوقع ہے۔