محکمہ موسمیات کے مطابق مضبوط مون سون ہوائیں بالائی سطح پر موجود مغربی ہواؤں کے نظام کے ساتھ مل کر جمعے کی رات سے کشمیر، خیبر پختونخوا، پنجاب، اسلام آباد اور گلگت بلتستان میں بارش، آندھی اور گرج چمک کا باعث بنیں گی، جبکہ بعض مقامات پر موسلادھار بارش بھی متوقع ہے۔
کشمیر میں وادی نیلم، مظفرآباد، راولاکوٹ، پونچھ، باغ، کوٹلی، بھمبر اور میرپور میں جمعے کی رات سے 23 اگست تک وقفے وقفے سے بارش، آندھی اور گرج چمک کے ساتھ موسلادھار بارش کا امکان ہے۔
گلگت بلتستان کے اضلاع دیامر، استور، غذر، اسکردو اور ہنزہ میں بھی اس دوران بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
خیبر پختونخوا میں پشاور، ایبٹ آباد، مانسہرہ، سوات، دیر، چترال، کوہستان، مردان، صوابی، کوہاٹ، ڈی آئی خان اور ملحقہ قبائلی اضلاع میں جمعے کی شام سے 23 اگست تک وسیع پیمانے پر بارش اور گرج چمک متوقع ہے۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سمیت پنجاب کے راولپنڈی، مری، گلیات، اٹک، سیالکوٹ، گوجرانوالہ اور لاہور میں جمعے کی رات سے اتوار کی صبح تک موسلادھار بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
وسطی اور جنوبی پنجاب کے سرگودھا، فیصل آباد، ساہیوال، لیہ اور ڈی جی خان میں ہفتے کے روز بارش متوقع ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ اور بلوچستان کے بیشتر جنوبی میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا، تاہم جمعے کی شام اور ہفتے کو موسیٰ خیل، بارکھان، ژوب، قلات اور خضدار میں کہیں کہیں بارش، آندھی اور گرج چمک کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ ہفتے کے اختتام پر ہونے والی شدید بارش کے باعث اسلام آباد، راولپنڈی، مردان، صوابی، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور لاہور کے نشیبی علاقوں میں شہری سیلاب کا خطرہ ہے۔
کشمیر، مری، گلیات، اسلام آباد اور راولپنڈی کے مقامی نالوں اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، مری اور آزاد کشمیر کے حساس پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
محکمہ موسمیات نے شمالی علاقوں کا رخ کرنے والے مسافروں اور سیاحوں کو احتیاط برتنے اور شدید بارش کے دوران غیر ضروری سفر سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
کاشتکاروں کو بھی بارش کی پیشگوئی کے پیش نظر فصلوں سے متعلق سرگرمیوں میں مناسب ردوبدل اور مویشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
دوسری جانب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اداروں اور ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ رہنے اور ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے حساس علاقوں میں مشینری اور ضروری وسائل پہلے سے تعینات رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔







