سی ٹی ڈی کے اعداد و شمار کے مطابق رواں سال کے گیارہ ماہ میں مجموعی طور پر 1588 تشدد کے واقعات پیش آئے، جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد 1058 تھی، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات میں تقریباً 50 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

پہلے آٹھ ماہ کے دوران صوبے میں 766 حملے ہوئے، جن میں 92 پولیس اہلکار، 166 سیکیورٹی فورسز کے اہلکار اور 159 عام شہری ہلاک ہوئے، جبکہ 410 شہری زخمی بھی ہوئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پولیس پر حملوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، رواں سال پولیس پر 510 حملے کیے گئے جو گزشتہ سال کے 327 حملوں کے مقابلے میں 56 فیصد زیادہ ہیں۔ ان حملوں میں 137 پولیس اہلکار شہید اور 236 زخمی ہوئے۔ پولیس اور سی ٹی ڈی نے ان حملوں کے بعد مجموعی طور پر 320 جوابی کارروائیاں کی ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ حملے ضلع بنوں میں ہوئے جہاں 160 سے زائد دہشت گرد کارروائیاں رپورٹ کی گئیں۔ دوسرے نمبر پر شمالی وزیرستان، پھر لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی تشدد کے واقعات پیش آئے۔

رپورٹ کے مطابق صوبے میں پولیس اور سی ٹی ڈی کے علاوہ سیکیورٹی فورسز نے بھی انٹیلیجنس کی بنیاد پر متعدد آپریشنز کیے، جن میں مسلح افراد کی ہلاکتوں کے ساتھ فورسز کو بھی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

سال کے دوران سب سے بڑے حملے کیڈٹ کالج وانا، ایف سی ہیڈکوارٹر بنوں، پشاور کے مختلف مقامات اور پولیس اسکول ڈیرہ اسماعیل خان میں کیے گئے، جن میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی حفاظت کے لیے بڑے پیمانے پر آپریشنز بھی کیے گئے۔