بنو قابل گوادر میں موجود شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ تعلیم، روزگار، امن اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ اگر ریاست یہ فرائض ادا نہیں کرے گی تو عوام میں بے چینی اور محرومی بڑھے گی۔
انہوں نے کہا کہ آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام اپنے حقوق کے لیے آواز بھی بلند کریں اور اپنے حصے کی شمع بھی جلائیں، یہی جماعتِ اسلامی کا عملی ماڈل ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے نوجوان نسل بالخصوص جنریشن زی (Gen Z) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس نسل کو محض لیبل لگا کر ایک مذاق بنا دیا گیا ہے، حالانکہ آج کے نوجوان باشعور، باصلاحیت اور دنیا سے جڑے ہوئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ دور دراز علاقوں میں رہنے کے باوجود وہ عالمی حالات سے باخبر ہیں، سوال کرتے ہیں اور جواب چاہتے ہیں۔ ریاست اور قیادت کی ذمہ داری ہے کہ انہیں جواب دے، تعلیم دے، رہنمائی کرے اور آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کرے۔
حافظ نعیم الرحمان نے جماعتِ اسلامی کے بنو قابل پروگرام کو نوجوانوں کے لیے ایک گیم چینجر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پورے پاکستان میں نوجوانوں کا سب سے مقبول پروگرام بن چکا ہے۔ اس پروگرام کے تحت نوجوانوں کو مکمل طور پر مفت آئی ٹی کورسز فراہم کیے جا رہے ہیں۔
گوادر کی بیٹیوں اور نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جو طلبہ ٹیسٹ میں کامیاب ہوں گے انہیں 100 فیصد مفت آئی ٹی کورسز کروائے جائیں گے اور اگر وہ مزید کورسز کرنا چاہیں تو دوسرا، تیسرا اور چوتھا کورس بھی بغیر کسی فیس کے کروایا جائے گا۔
امیرجماعتِ اسلامی نے گوادر میں پانی کے شدید بحران پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ساحلی شہر ہونے کے باوجود پینے کے پانی کو ترس رہا ہے۔
انہوں نے بلوچستان حکومت سے سوال کیا کہ گزشتہ 10 برسوں میں باؤزرز کے ذریعے پانی کی فراہمی اور مختلف اسکیموں پر 8 سے 10 ارب روپے بلکہ اس سے بھی زیادہ رقم خرچ کی جا چکی ہے، لیکن مسئلہ آج تک حل نہیں ہو سکا۔
حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ ڈیڑھ لاکھ آبادی والے شہر کے لیے محض 4 سے 5 ملین گیلن یومیہ کا ڈی سیلینیشن پلانٹ کافی ہے، جو 3 سے 5 ارب روپے میں لگ سکتا ہے اور اس سے مستقل بنیادوں پر نہ صرف گوادر بلکہ گرد و نواح کے علاقوں کو بھی میٹھا پانی فراہم کیا جا سکتا ہے۔
امیر جماعتِ اسلامی نے الزام عائد کیا کہ اصل مسائل حل کرنے کے بجائے ایسے منصوبے بنائے جاتے ہیں جن میں کرپشن اور لوٹ مار کے مواقع ہوں، جب کہ عوام کے حقیقی مسائل جوں کے توں رہتے ہیں۔
انہوں نے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف گوادر نہیں بلکہ پورے بلوچستان کے عوام کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اور اس جدوجہد میں قید و بند کی صعوبتیں بھی برداشت کر چکے ہیں۔
حافظ نعیم الرحمان نے بارڈر ٹریڈ کے مسئلے پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت کو لیگل فریم ورک میں لایا جائے۔ جب حکومت عوام کو سہولتیں فراہم نہیں کرتی اور اشیائے ضروریہ مہنگی ہو جاتی ہیں تو پھر لوگوں کو روکنے کے بجائے تجارت کو قانونی بنایا جائے تاکہ عام آدمی کو سستی اشیاء میسر آ سکیں اور رشوت و بدعنوانی کا خاتمہ ہو۔
یہ بھی پڑھیں: وادی تیراہ کو فوج کے احکامات پر خالی کرانے کے الزامات بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں، وزارتِ اطلاعات
سی پیک کے حوالے سے بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ حکمران گوادر کو سی پیک کا “ماتھے کا جھومر” قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نہ گوادر سے کوئٹہ یا کراچی تک موٹروے بنی، نہ ریلوے لائن بچھائی گئی اور نہ ہی پورٹ کو مکمل طور پر فعال کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل ایئرپورٹ بنا دیا گیا ہے مگر بین الاقوامی پروازیں نہیں لائی گئیں، جبکہ پورٹ فعال ہوگی تو ہی سرمایہ کاری اور روزگار آئے گا۔
امیر جماعتِ اسلامی نے واضح کیا کہ صرف نعروں، تقاریر اور رٹ قائم کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ ریاست کو تمام شہریوں کو برابری کی بنیاد پر سہولتیں فراہم کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ جماعتِ اسلامی بلوچستان کا مقدمہ صرف گوادر میں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں لڑ رہی ہے۔ مینارِ پاکستان پر لاکھوں افراد کے اجتماع میں بھی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ نے بلوچستان کے عوام کا مقدمہ پیش کیا، جس پر پورا پاکستان ان کے ساتھ کھڑا نظر آیا۔
حافظ نعیم الرحمان نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کسی فرد، جرنیل یا سیاسی خاندان کا نام نہیں بلکہ پاکستان عوام اور نوجوانوں کا نام ہے۔ ظلم کرنے والے اور حقوق سلب کرنے والے چند لوگ ہیں، جب کہ پورا ملک بلوچستان کے عوام کے ساتھ کھڑا ہے۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم حاصل کریں، ہنر سیکھیں، آگے بڑھیں اور ایک مضبوط، باوقار اور خوشحال پاکستان کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کریں۔







