ایف آئی اے کے مطابق مقدمہ 29 اکتوبر کو اینٹی کرپشن سرکل میں درج کیا گیا، جس میں سابق چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی، ایف بی آر کے متعدد اہلکاروں اور مختلف بینکوں کے عہدیداران کو نامزد کیا گیا ہے۔
درج ایف آئی آر کے مطابق، ریفنڈ کی رقم حاصل کرنے والوں میں تین بینک، دو سیمنٹ ساز کمپنیاں اور ایک کیمیکل کمپنی شامل ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ کمپنیاں اور بینک شبر زیدی کی نجی فرم کے کلائنٹس تھے، جو ان کی بطور چیئرمین ایف بی آر تعیناتی سے قبل ان کے ساتھ منسلک رہے۔
ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ شبر زیدی نے مئی 2019 سے جنوری 2020 کے دوران اہلکاروں کی ملی بھگت سے غیر مجاز ادائیگیاں منظور کیں۔
انکوائری نمبر 91/2025 کے مطابق، معتبر ذرائع سے موصول ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ بطور چیئرمین ایف بی آر، شبر زیدی نے اپنے سابقہ کلائنٹس کو 16 ارب روپے سے زائد کی رقم کی ادائیگی کی۔
ایف آئی اے کے مطابق، دورانِ تفتیش یہ بات ثابت ہوئی کہ شبر زیدی 10 مئی 2019 سے 6 جنوری 2020 تک چیئرمین ایف بی آر کے عہدے پر فائز رہے۔ مقدمے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات انسدادِ بدعنوانی ایکٹ 1947 اور پاکستان پینل کوڈ کے تحت قابلِ سزا جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
ایف آئی اے نے بتایا کہ مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بعد سابق چیئرمین ایف بی آر کے خلاف باضابطہ مقدمہ درج کر لیا گیا ہےاور مزید تحقیقات جاری ہیں۔







