تفصیلات کے مطابق کمپنی کے وینچر سرمایہ کاری شعبے آکٹا وینچرز کی جانب سے جاری کردہ اس فہرست میں ایسے ماہرین کو شامل کیا گیا ہے جو ڈیجیٹل شناخت کے شعبے میں جدت، حکمتِ عملی اور عملی نفاذ کے ذریعے نمایاں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
اوکٹا کے مطابق ان شخصیات کو ڈیجیٹل لین دین کو محفوظ اور ہموار بنانے کے لیے سافٹ ویئر کی تیاری، معیارات کے فروغ اور مؤثر حکمتِ عملی کے نفاذ میں نمایاں کردار ادا کرنے پر تسلیم کیا گیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کا کام ڈیجیٹل دور کے اہم ترین چیلنجز سے نمٹنے میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
اس اعزاز کے موقع پر طارق ملک کو دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ٹائمز اسکوائر، نیویارک سٹی میں ناسڈیک کے بل بورڈ پر بھی نمایاں کیا گیا۔
اپنے ایک انٹرویو میں طارق ملک کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل شناخت کی کامیابی یا ناکامی کا دارومدار صرف ٹیکنالوجی پر نہیں بلکہ اس کی گورننس پر ہوتا ہے اور یہ کہ آیا یہ نظام سیاسی دباؤ کو برداشت کر سکتا ہے یا نہیں۔
انہوں نے کہا کہ شناختی نظام کو بنیادی گورننس انفراسٹرکچر کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جس میں ادارہ جاتی خودمختاری، قانونی تحفظات اور عوامی اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے جوابدہی کا مضبوط نظام موجود ہو۔
طارق ملک نے عالمی سطح پر تین اہم رجحانات کی نشاندہی بھی کی، جن میں پاس ورڈ کے بغیر تصدیق اور قابلِ تصدیق اسناد، مشین سے پڑھنے کے قابل گورننس نظام اور شناخت، ڈیٹا اور مصنوعی ذہانت کا ایک مربوط اعتماد کے ڈھانچے میں انضمام شامل ہیں۔
نادرا میں اپنی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی بھی نظام کی کامیابی کا انحصار اعتماد، افادیت اور مؤثر گورننس پر ہوتا ہے۔ ان کے مطابق کامیاب شناختی نظام وہ ہوتے ہیں جو ابتدا ہی سے شہریوں کو واضح فائدہ فراہم کریں، جامع رجسٹریشن کو یقینی بنائیں اور مضبوط حفاظتی اقدامات پر مشتمل ہوں۔
وطن کی مٹی گواہ رھنا!
— Tariq Malik ™ (@ReplyTariq) May 4, 2026
وطن کی مٹی عظیم ہے تو
عظیم تر ہم بنا رہے ہیں۔
پاکستان زندہ باد۔ 🇵🇰 #PakistanZindabad #Pakistan pic.twitter.com/T2CzY5plUf
انہوں نے مزید کہا کہ جب شناختی نظام شفافیت کو فروغ دیتے ہیں یا مفادات کو متاثر کرتے ہیں تو انہیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ایسے حالات میں استقامت کے لیے ادارہ جاتی ہم آہنگی ضروری ہوتی ہے۔
واضح رہے کہ طارق ملک نے 2013 میں بطور چیئرمین نادرا اپنی تین سالہ مدت مکمل کرنے کے بعد استعفیٰ دیا تھا۔ وہ اس وقت ورلڈ بینک کے شناخت برائے ترقی پروگرام (آئی ڈی فار ڈی) کے تکنیکی مشیر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جہاں وہ افریقہ، جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ میں ڈیجیٹل شناخت اور ڈیجیٹل پبلک انفراسٹرکچر منصوبوں پر مشاورت فراہم کر رہے ہیں۔
اس سے قبل وہ یونائیٹڈ نیشنز ڈیولپمنٹ پروگرام میں ڈیجیٹل شناخت اور ڈیجیٹل گورننس کے چیف تکنیکی مشیر کے طور پر بھی کام کر چکے ہیں۔
طارق ملک کو اس سے قبل بھی عالمی سطح پر پذیرائی حاصل ہو چکی ہے اور ان کا نام ڈیجیٹل گورننس کے شعبے میں دنیا کے 100 بااثر افراد کی فہرست میں شامل کیا جا چکا ہے، جسے اپی پولیٹیکل اور ون ورلڈ آئیڈینٹٹی نے جاری کیا تھا۔
انہوں نے 2009 میں اٹلی میں منعقدہ آئی ڈی ورلڈ انٹرنیشنل کانگریس میں نمایاں کامیابی کا ایوارڈ بھی حاصل کیا، جب کہ پاکستان میں ڈیجیٹل جدت کے ذریعے گورننس کے فروغ پر انہیں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔







