واضح رہے کہ اس سے قبل غزہ سے اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد پاکستان پہنچنے والے مشتاق احمد کا اسلام آباد ایئرپورٹ پر شاندار استقبال کیا گیا۔ نجی ائرلائن کی پرواز سے وطن واپس آنے کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے ذریعے غزہ کو بچانے گئے تھے اور وہاں کی حالت زار انتہائی ہولناک تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ دو سال سے غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے، 25 ہزار بچے معذور ہوچکے ہیں۔ میرا ارادہ واپس آنے کا نہیں تھا، میں وصیت لکھ کر گیا تھا، میں اپنی زندگی غزہ کے لیے وقف کر چکا ہوں۔
جماعت اسلامی سے استعفیٰ دیا ہے سفر پر جاتے وقت رسپانس نہیں ملا، مشتاق احمد https://t.co/Wa1yVLiGsQ pic.twitter.com/JfdLpLTEzr
— Saeed Yousafzai (@KPAgainstWar) October 9, 2025
سابق سینیٹر نے کہا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے شرکاء میں 80 فیصد غیر مسلم تھے اور ان تمام کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل اور اس کے وزیراعظم پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل میرے لیے قابلِ قبول نہیں؛ مجھے ڈکیتوں نے اغوا کیا، میرے پاس سفر کے دوران اسرائیل کی مہر موجود نہیں تھی۔
انہوں نے پاکستانی حکمرانوں پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ مسلم حکمرانوں سے حساب لیں گے جو اسرائیل کے سہولت کار ہیں، میں دو ریاستی حل یا ابراہیم معاہدے کو قبول نہیں کرتا اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتا ہوں۔
مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ میں پورے پاکستان میں پاک فلسطین کمیٹیوں کا قیام چاہتا ہوں اور ہر گاؤں، شہر اور پریس کلب میں فلسطینیوں کے حق میں سرگرمیاں چلواؤں گا۔ کراچی سے ہزاروں کشتیوں کا قافلہ غزہ کے لیے بھیجا جائے گا اور میں امریکی سفارت خانے کے سامنے پر امن احتجاج اور دھرنے کی بھی وکالت کرتا ہوں۔
اپنے خطاب میں پیغام دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری زندگی و موت غزہ کے لیے ہے اور پاکستانی عوام اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں واضح اور فعال موقف اپنائیں۔







