واضح رہے کہ اس سے قبل غزہ سے اسرائیلی قید سے رہائی کے بعد پاکستان پہنچنے والے مشتاق احمد کا اسلام آباد ایئرپورٹ پر شاندار استقبال کیا گیا۔ نجی ائرلائن کی پرواز سے وطن واپس آنے کے بعد اپنے حامیوں سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے ذریعے غزہ کو بچانے گئے تھے اور وہاں کی حالت زار انتہائی ہولناک تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ دو سال سے غزہ میں نسل کشی ہو رہی ہے، 25 ہزار بچے معذور ہوچکے ہیں۔ میرا ارادہ واپس آنے کا نہیں تھا، میں وصیت لکھ کر گیا تھا، میں اپنی زندگی غزہ کے لیے وقف کر چکا ہوں۔

سابق سینیٹر نے کہا کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے شرکاء میں 80 فیصد غیر مسلم تھے اور ان تمام کا احترام کرتے ہیں۔ انہوں نے اسرائیل اور اس کے وزیراعظم پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اسرائیل میرے لیے قابلِ قبول نہیں؛ مجھے ڈکیتوں نے اغوا کیا، میرے پاس سفر کے دوران اسرائیل کی مہر موجود نہیں تھی۔

انہوں نے پاکستانی حکمرانوں پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا کہ وہ مسلم حکمرانوں سے حساب لیں گے جو اسرائیل کے سہولت کار ہیں، میں دو ریاستی حل یا ابراہیم معاہدے کو قبول نہیں کرتا اور امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کو مسترد کرتا ہوں۔

مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ میں پورے پاکستان میں پاک فلسطین کمیٹیوں کا قیام چاہتا ہوں اور ہر گاؤں، شہر اور پریس کلب میں فلسطینیوں کے حق میں سرگرمیاں چلواؤں گا۔ کراچی سے ہزاروں کشتیوں کا قافلہ غزہ کے لیے بھیجا جائے گا اور میں امریکی سفارت خانے کے سامنے پر امن احتجاج اور دھرنے کی بھی وکالت کرتا ہوں۔

اپنے خطاب میں پیغام دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میری زندگی و موت غزہ کے لیے ہے اور پاکستانی عوام اور سیاسی جماعتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے حق میں واضح اور فعال موقف اپنائیں۔