اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پاکستان رائٹس موومنٹ اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنماؤں نے آئندہ سیاسی جدوجہد مشترکہ طور پر جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت، آزاد عدلیہ اور آئین کی بالادستی کے لیے مل کر کردار ادا کیا جائے گا۔
مصطفیٰ نواز کھوکھر نے کہا کہ وہ سینیٹر مشتاق احمد خان کے مشکور ہیں جنہوں نے انہیں دعوت دی۔ انہوں نے کہا کہ سینیٹر مشتاق احمد گزشتہ کئی برسوں سے فلسطین سمیت دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی آواز بلند کرتے رہے ہیں اور ظالم ریاستوں کے سامنے حق بات کرنے پر انہیں مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں مل کر مسائل کے حل اور عوامی حقوق کے لیے مشترکہ سیاسی سفر جاری رکھیں گی۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان اور پاکستان رائٹس موومنٹ حقیقی جمہوریت، آزاد عدلیہ اور عوامی حقوق کے لیے مل کر جدوجہد کریں گی۔
انہوں نے فلسطینیوں کی صورت حال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہزاروں فلسطینی قیدی اسرائیلی جیلوں میں غیر انسانی سلوک کا سامنا کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان کو فوری طور پر بورڈ آف پیس سے الگ ہونا چاہیے۔
حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرول پر بھاری ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے، مہنگائی اور دہشت گردی میں اضافہ ہو رہا ہے اور عوام ناکام پالیسیوں کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔
اپوزیشن اتحاد کے رہنما زبیر عمر نے کہا کہ ملک میں مہنگائی اور غربت بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، جب کہ حکومت معیشت سنبھالنے میں ناکام ہو گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت عالمی تیل کی قیمتوں کو جواز بنا رہی ہے، جب کہ انڈیا اور بنگلہ دیش میں صورت حال مختلف ہے۔ ان کے بقول آنے والے بجٹ میں بھی عوام پر مزید بوجھ ڈالے جانے کا خدشہ ہے۔
علامہ راجا ناصر عباس نے کہا کہ سینیٹر مشتاق احمد خان نے مظلوم مسلمانوں کے لیے جرات مندانہ آواز بلند کی ہے، جب کہ ملک میں عدلیہ، الیکشن کمیشن اور پارلیمان آزاد نہیں رہے۔
محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک خطرناک حالات کی طرف بڑھ رہا ہے، جمہوریت کو نقصان پہنچایا گیا ہے اور آئینِ پاکستان ہی ملک کو جوڑے ہوئے ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر سیاسی قوتیں آئین کے تحفظ کے لیے آگے نہ آئیں تو حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔






