پنجاب کے شہر مریدکے میں مذہبی جماعت کے کارکنوں کے پرتشدد احتجاج کے بعد پولیس نے دہشتگردی، قتل، اقدام قتل، اغوا اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے سمیت 30 سے زائد سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
مقدمہ سب انسپکٹر افضل کی مدعیت میں تھانہ سٹی مریدکے میں درج کیا گیا ہے جس میں جماعت کے سربراہ سعد رضوی، ان کے بھائی انس رضوی سمیت 19 نامزد اور ساڑھے تین ہزار سے زائد نامعلوم کارکنان کو شامل کیا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق یہ مقدمہ 12 اور 13 اکتوبر کی درمیانی شب پیش آنے والے پرتشدد واقعات کے بعد درج کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ احتجاج کے دوران مظاہرین نے پتھروں، کیلوں والے ڈنڈوں، اسلحے اور پیٹرول بموں سے حملے کیے۔
مزید براں کچھ مظاہرین نے پولیس اہلکاروں سے اسلحہ چھین کر فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں ایک پولیس افسر شہید اور 48 اہلکار زخمی ہوئے جن میں 17 کو گولیوں کے زخم آئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ تصادم کے دوران کم از کم 40 گاڑیاں اور متعدد دکانیں نذر آتش ہوئیں۔ ہنگاموں کے دوران تین مذہبی جماعت کے کارکن اور چھ راہگیر جاں بحق جبکہ تقریباً 30 شہری زخمی ہوئے۔ حالات قابو سے باہر ہونے پر پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔
واضع رہے کہ پولیس نے متعدد مظاہرین کو گرفتار کرلیا جبکہ سعد رضوی اور کئی رہنما موقع سے فرار ہوگئے۔ حکام کے مطابق ابتدائی تفتیش سے پتہ چلا ہے کہ فائرنگ میں استعمال ہونے والا اسلحہ وہی تھا جو مظاہرین نے پولیس سے چھینا تھا۔
ذرائع کے مطابق حکومت پنجاب نے واقعے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ اعلیٰ حکام نے ہدایت دی ہے کہ پولیس اہلکاروں پر حملہ کرنے اور عوامی املاک کو نقصان پہنچانے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔






