عرب میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ افغانستان پاکستان کے ساتھ مذاکرات اور تعاون کا سلسلہ جاری رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان اختلافات اور تنازعات کے حل کے لیے سعودی عرب سمیت دیگر ممالک کی سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کیا جائے گا۔
ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ سعودی عرب کو دونوں ممالک کے درمیان معاملات میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ افغانستان سعودی عرب کو دوست ملک سمجھتا ہے اور اس کی ثالثی کی کوششوں کا احترام کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ افغان عوام کے دلوں میں سعودی عرب اور دونوں مقدس مساجد کے لیے خصوصی محبت اور احترام پایا جاتا ہے، اسی لیے افغان طالبان کو امید ہے کہ سعودی قیادت افغانستان اور پاکستان کے درمیان موجود مسائل کے حل کے لیے اپنی سفارتی کوششوں کو مؤثر انداز میں آگے بڑھائے گی۔
طالبان ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان سعودی عرب کی ثالثی کے حوالے سے ہونے والی کوششوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور امید کرتا ہے کہ سعودی حکام دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا ماحول بہتر بنانے میں مدد فراہم کریں گے۔
ذبیح اللہ مجاہد کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سیکیورٹی اور سرحدی معاملات سمیت مختلف امور پر کشیدگی اور اختلافات موجود رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں میں دہشتگردی کا معاملہ بھی ایک اہم موضوع رہا ہے۔
پاکستان مسلسل یہ مؤقف دہراتا آیا ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام آباد کی جانب سے افغان حکام سے یہ مطالبہ بھی کیا جاتا رہا ہے کہ افغانستان میں موجود مسلح گروہوں اور پاکستان مخالف عناصر کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب سعودی عرب نے ماضی میں بھی افغانستان سے متعلق سفارتی معاملات میں رابطہ کاری اور ثالثی کا کردار ادا کیا ہے۔ رواں سال سعودی کوششوں کے نتیجے میں افغانستان میں زیرِ حراست تین پاکستانی شہریوں کی رہائی بھی عمل میں آئی تھی، جسے افغان حکام نے خیرسگالی کا اقدام قرار دیا تھا۔
افغان طالبان کی جانب سے پاکستان کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش کا اظہار اور سعودی عرب سے ثالثی کے لیے کردار ادا کرنے کی توقع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ کابل دونوں ممالک کے درمیان موجود اختلافات کو مذاکرات اور سفارتی رابطوں کے ذریعے حل کرنے کی خواہش رکھتا ہے۔
تاہم پاکستان کی جانب سے سیکیورٹی سے متعلق بنیادی مطالبہ بدستور یہی ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو اور پاکستان مخالف دہشتگرد گروہوں کے خلاف قابلِ عمل اقدامات کیے جائیں۔







