اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر قانون نے واضح کیا کہ جیل میں کسی قسم کی ملاقات نگرانی کے بغیر نہیں ہو سکتی اور قواعد کے مطابق بانی پی ٹی آئی ہفتے میں ایک خط لکھ سکتے ہیں اور ایک ملاقات کرسکتے ہیں۔ اگر سپرنٹنڈنٹ جیل کو یہ محسوس ہو کہ ملاقات سے نقضِ امن یا انتشار پیدا ہو سکتا ہے تو اسے ملاقات روکنے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔

ایک سوال کے جواب میں اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے جیل توڑنے کی کوشش کا سوچا بھی تو ریاست بھرپور ردعمل دے گی۔ ریاست کے پاس قانونی طریقہ کار بھی ہے اور طاقت بھی، اس لیے قانون کے مطابق کارروائی ہو کر رہے گی۔

وفاقی وزیرِ قانون نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق کوئی بھی سزا یافتہ شخص پارٹی سربراہ نہیں رہ سکتا۔

 انہوں نے بتایا کہ ماضی میں نواز شریف، شہباز شریف اور مریم نواز ایک ہی جیل میں رکھے گئے تھے لیکن انہیں آپس میں ملنے کی اجازت نہیں تھی۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا یہ مؤقف کہ ملاقات کرکے کابینہ بنانی ہے سراسر غیر قانونی ہے، کیونکہ جیل رولز کے مطابق ملاقاتوں میں سیاسی مشاورت کی اجازت نہیں ہوتی۔ البتہ وکیل اور کلائنٹ کی ملاقات قانونی حق ہے اور وہ لازم بھی ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ ایک طرف تحریک انصاف انصاف کی بات کرتی ہے لیکن خود ہی قانون سے باہر جانے کی کوشش کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سہیل آفریدی کی جانب سے یہ کہنا کہ ایک سزا یافتہ سے مشاورت کرکے کابینہ بنائیں گے قانون کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے، کیونکہ جو شخص خود بادشاہ نہیں بن سکتا وہ کسی دوسرے کو بادشاہ کیسے بنا سکتا ہے۔

وفاقی وزیر قانون نے مزید انکشاف کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو جیل میں سات کمروں پر مشتمل پورا ایک کمپلیکس دیا گیا ہے، جہاں انہیں ان کی پسند کا کھانا فراہم کیا جاتا ہے اور چیا سیڈز بھی ان کے مینو میں شامل ہیں اور ان کے لیے باہر سے بھی کھانا آتا ہے۔