ان خیالات کا اظہار انہوں نے مجلس اتحادِ امت پاکستان کے تحت منعقدہ مشاورتی علمی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں مفتی منیب الرحمن، مولانا فضل الرحمن سمیت تمام مکاتبِ فکر کے علما نے شرکت کی۔
افتتاحی خطاب میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ملک میں نفاذِ شریعت کے لیے آئینی جدوجہد ہی واحد راستہ ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدہ صورتحال کے پیش نظر علما کو متفقہ رائے کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ دینی مدارس کا مسئلہ طویل عرصے سے حل طلب ہے اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی متفقہ موقف اختیار کیا گیا، اسے قبولیت حاصل ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ 1973 کا آئین تمام مکاتبِ فکر کی مشاورت سے متفقہ طور پر منظور ہوا، جس میں اسلام کو پاکستان کا سرکاری مذہب قرار دیا گیا۔ قراردادِ مقاصد کی منظوری کے ذریعے یہ طے کیا گیا کہ قرآن و سنت کے خلاف کوئی قانون نہیں بنایا جائے گا۔ اسی مقصد کے تحت وفاقی شرعی عدالت قائم کی گئی تاکہ قرآن و سنت کے خلاف قوانین کا خاتمہ کیا جا سکے۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ آئین کے مطابق وفاقی شرعی عدالت میں تین علما کا تقرر ہونا لازم ہے اور مطالبہ کیا کہ اس آئینی تقاضے کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ 26ویں ترمیم میں 2028ء تک سود کے خاتمے کا وعدہ کیا گیا ہے، تاہم اب ایک منظم کوشش کے ذریعے اس پر عمل درآمد روکنے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزارتِ قانون نے تجویز دی ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری رکھنے والے بینکوں کو سود کے خاتمے سے مستثنیٰ قرار دیا جائے، جب کہ بعض بڑے ملکی بینکوں میں غیر ملکی شیئرز شامل کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ علما کے اس اجتماع کو سود کو برقرار رکھنے کی ان کوششوں کے خلاف واضح لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔
مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ 27ویں ترمیم کے تحت صدر اور فوج کے اعزازی عہدے پر فائز فیلڈ مارشل کو تاحیات استثنیٰ دینا اسلام اور انصاف کے اصولوں کے منافی ہے اور اس کی دنیا کے کسی دستور میں کوئی مثال نہیں ملتی، لہٰذا اس شق پر شدید اعتراض ہے۔
انہوں نے کہا کہ 18 سال سے کم عمر کی شادی کو غیر قانونی قرار دینا اور اس پر سزا دینا بھی خلافِ اسلام ہے، اس حوالے سے علما کو اپنی متفقہ رائے پیش کرنی چاہیے۔
غزہ کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی اور اگر امریکہ اس حوالے سے پاکستان کو شامل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کی بھرپور مخالفت کی جائے گی۔
آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ 27ویں ترمیم کے تحت مقررہ مدت میں سود کا خاتمہ یقینی بنایا جائے، ٹرانس جینڈر قانون ختم کیا جائے اور افغانستان کے ساتھ کشیدگی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے کم کی جائے۔






