ذرائع کے مطابق ملاقات میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور پاکستانی سفیر بھی شریک تھے۔ صدر آصف علی زرداری نے امیرِ قطر کو حکومتِ پاکستان اور عوام کی جانب سے نیک خواہشات کا پیغام پہنچایا اور قطر کی ترقی و خوشحالی میں امیرِ قطر کی بصیرت افروز قیادت کو سراہا۔

صدرِ مملکت نے دفاع، دفاعی پیداوار، زراعت اور غذائی تحفظ جیسے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے کی تجویز دی، جس پر امیرِ قطر نے فوری طور پر متعلقہ حکام کو رابطوں کی ہدایت دیتے ہوئے تعاون میں وسعت پر رضامندی کا اظہار کیا۔

امیرِ قطر نے پاکستان میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ان کی خدمات قابلِ تحسین ہیں اور قطر میں ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ قطر کو پاکستان اور اس کی کامیابیوں پر فخر ہے۔ دونوں رہنماؤں نے اس موقع پر تاریخی، برادرانہ اور دیرینہ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔

امیرِ قطر نے کہا کہ پاکستان ایک منفرد حیثیت رکھنے والا ملک ہے جو بیک وقت چین، مغرب اور خلیجی ممالک کے ساتھ مضبوط تعلقات رکھتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان اور افغانستان حالیہ مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرتے ہوئے علاقائی امن و استحکام کی راہ پر گامزن ہوں گے۔

صدر آصف علی زرداری نے افغانستان کے حوالے سے قطر کے مثبت اور تعمیری کردار کو سراہا اور دوحہ مذاکرات کی میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے امیرِ قطر کو دورہ پاکستان کی دعوت دی، جو امیرِ قطر نے قبول کرتے ہوئے آئندہ سال کے اوائل میں پاکستان آنے کا اعلان کیا۔

اس سے قبل، صدر آصف علی زرداری نے چین کے نائب صدر ہان ژنگ سے بھی ملاقات کی، جو دوحہ میں جاری سماجی ترقی سے متعلق دوسری عالمی کانفرنس کے موقع پر ہوئی۔ ملاقات میں صدر زرداری نے کہا کہ پاکستان اور چین آہنی بھائی اور ہر موسم کے اسٹریٹجک شراکت دار ہیں۔

انہوں نے چین کی جانب سے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین سے دوستی پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔ صدر زرداری نے سی پیک کے کامیاب نفاذ اور ترقیاتی منصوبوں میں چین کے کلیدی کردار کو بھی سراہا۔