واضح رہے کہ دونوں معزز ججز نے 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے خلاف احتجاجاً اپنے استعفے گزشتہ روز صدرِ مملکت کو بھجوائے تھے، جنہیں آج قبول کر لیا گیا۔

دوسری جانب پاکستان کی پہلی وفاقی آئینی عدالت کے تین ججز نے اپنے عہدوں کا حلف اٹھا لیا ہے۔

حلف برداری کی تقریب اسلام آباد ہائی کورٹ کی عمارت میں منعقد ہوئی، جس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے پانچ ججز شریک ہوئے، تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان کا کوئی جج تقریب میں موجود نہ تھا۔

وفاقی آئینی عدالت کے پہلے چیف جسٹس امین الدین خان نے اپنے تین ججز جسٹس حسن اظہر رضوی، جسٹس عامر فاروق اور جسٹس علی باقر نجفی سے حلف لیا۔

اس سے قبل صدر آصف علی زرداری وفاقی آئینی عدالت کے چھ ججز کی تقرری کی منظوری دے چکے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز جسٹس امین الدین خان کو وفاقی آئینی عدالت کا چیف جسٹس مقرر کیا گیا تھا۔ اس سے قبل جسٹس امین الدین خان آئینی بینچ کے سربراہ تھے اور وہ اس ماہ کے آخر میں ریٹائر ہو رہے تھے۔

نوٹیفیکشن کے مطابق امین الدین خان کا بطور چیف جسٹس وفاقی آئینی عدالت کا اطلاق عہدے کا حلف لینے کے دن سے ہوگا یعنی اب وہ 68 برس تک اس وفاقی آئینی عدالت کی سربراہی کر سکتے ہیں۔