واشنگٹن میں کابینہ اجلاس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے پیٹ ہیگستھ نے ایران کو خبردار کیا کہ وہ کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش نہ کرے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی محکمۂ دفاع ہر قسم کے ممکنہ منظرنامے کے لیے تیار ہے اور فوجی صلاحیتیں صدر ٹرمپ کی پالیسی اور توقعات کے عین مطابق استعمال کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا خطے میں امن چاہتا ہے، تاہم اگر امریکی مفادات یا اتحادیوں کو خطرہ لاحق ہوا تو سخت اقدامات سے گریز نہیں کیا جائے گا، امریکی افواج کو جدید ہتھیاروں اور وسائل سے لیس کر دیا گیا ہے تاکہ کسی بھی صورتحال سے نمٹا جا سکے۔

مزید پڑھیں: پاکستان سمیت کسی ملک سے بھی اس جنگ میں کودنے کی حمایت کا مطالبہ نہیں کیا، ایرانی سفیر

اس موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مشرقِ وسطیٰ میں تعینات امریکی بحری بیڑے کو ایک “طاقتور اور فیصلہ کن بیڑا” قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ امید ہے اس بحری قوت کو استعمال کرنے کی نوبت نہیں آئے گی، تاہم امریکا کے پاس تمام آپشنز موجود ہیں اور وہ کسی بھی چیلنج کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ممکنہ مذاکرات کے حوالے سے بھی دو واضح شرائط بیان کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلی شرط یہ ہے کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول سے مکمل دستبرداری اختیار کرے، جبکہ دوسری شرط ملک میں مظاہرین کے خلاف تشدد کا خاتمہ ہے۔ ان کے مطابق ان شرائط کے بغیر کسی قسم کی پیش رفت ممکن نہیں۔

دوسری جانب ایران نے امریکی قیادت کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں نے کسی قسم کی عسکری کارروائی کی تو ایران بھرپور اور منہ توڑ جواب دے گا۔ تاہم ایرانی حکومت نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ مخصوص شرائط کے تحت مذاکرات کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کیے گئے۔

بین الاقوامی مبصرین کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے، جبکہ امریکی بحری بیڑے کی تعیناتی کو واشنگٹن کی جانب سے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔ صورتحال پر عالمی برادری کی نظریں جمی ہوئی ہیں اور آنے والے دنوں میں اس تنازع کے مزید شدت اختیار کرنے یا مذاکرات کی جانب بڑھنے کے امکانات موجود ہیں۔