چین کے شہر سنیا میں منعقدہ تقریب کے دوران صدر مملکت نے ایک مشترکہ منصوبے کے معاہدے اور دو مفاہمتی یادداشتوں (ایم او یوز) پر دستخط کے عمل کا مشاہدہ کیا، یہ معاہدے تعمیراتی مشینری، ویٹرنری ویکسینز اور جدید طبی ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے کے لیے طے پائے ہیں۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں کا بنیادی مقصد پاکستان اور چین کے درمیان صنعتی، زرعی اور طبی شعبوں میں اشتراک کو مزید مستحکم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، تحقیق و ترقی کے مواقع اور مشترکہ منصوبوں کے ذریعے دونوں ممالک کی معیشتوں کو فائدہ پہنچانے پر بھی زور دیا گیا ہے۔

دورے کے دوران صدر زرداری نے چینی حکام اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں بھی کیں، جن میں دوطرفہ تعلقات، سرمایہ کاری کے مواقع اور خطے کی مجموعی معاشی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، دونوں ممالک نے باہمی شراکت داری کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

واضح رہے  کہ حالیہ معاہدے پاک-چین اقتصادی تعلقات میں ایک اہم پیش رفت ہیں، جو نہ صرف صنعتی ترقی بلکہ صحت اور زراعت کے شعبوں میں بھی مثبت اثرات مرتب کریں گے۔ خصوصاً ویکسینز اور طبی ٹیکنالوجی کے میدان میں تعاون پاکستان کے صحت کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ تعلقات مختلف شعبوں میں تعاون پر مبنی ہیں، اور حالیہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان بڑھتے ہوئے اعتماد اور اسٹریٹجک شراکت داری کی عکاسی کرتی ہے۔