وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات اب تیزی سے ایک جامع معاشی شراکت داری کی شکل اختیار کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق دونوں ممالک اپنے شہریوں کو انصاف کی بہتر فراہمی کے لیے ایک دوسرے کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ترکیہ کے وفد کے حالیہ دورے کے دوران دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت اس تعاون کی جانب ایک ابتدائی قدم ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال میں بھی دونوں ممالک کے درمیان تجربات کے تبادلے کی خاصی گنجائش موجود ہے۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان اور ترکیہ موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، امیگریشن اور دیگر شعبوں میں قانون سازی اور اس پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی ایک دوسرے سے سیکھ سکتے ہیں۔

اس موقع پر ترکیہ کی آئینی عدالت کے صدر قادر اوزقایا نے مہمان نوازی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے لیے محبت ہر ترک شہری کے دل میں موجود ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ترکیہ کی آئینی عدالت کو قائم ہوئے 64 برس ہو چکے ہیں اور وہ اپنے تجربات کے تبادلے کے لیے پاکستان کے ساتھ ایک پائلٹ منصوبہ شروع کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ملاقات میں ترکیہ کی آئینی عدالت کے ججز رضوان گولیچ اور رجائی آق یل، پاکستان میں ترکیہ کے سفیر عرفان نظیر اوغلو بھی شریک تھے۔ پاکستانی وفد میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، اٹارنی جنرل منصور اعوان، وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی شامل تھے۔