تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کے مشیر برائے مصنوعی ذہانت و خصوصی اقدامات علی ڈار سے معروف فوڈ کمپنی Nestlé Pakistan کے چیئرمین سید یاور علی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات میں ڈیری سیکٹر کی بہتری، مویشیوں کی افزائش اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
علی ڈار نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں زرعی اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو ترقی دینے کیلئے ’سفید انقلاب‘ کے کامیاب عالمی ماڈلز کا جائزہ لیا جا رہا ہے،مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل مانیٹرنگ اور جدید فارمنگ ٹیکنالوجیز کے ذریعے دودھ کی پیداوار اور معیار دونوں میں نمایاں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
مشیر وزیراعلیٰ پنجاب برائے اے آئی و خصوصی اقدامات علی ڈار کی نیسلے پاکستان چئیرمین کی قیادت میں اعلیٰ سطح وفد سے اہم ملاقات@KulAalam @AmirSaeedAbbasi #Nestle pic.twitter.com/g7CLpzAk3v
— Media Talk (@mediatalk922) April 13, 2026
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کسانوں اور مویشی پال حضرات کو براہ راست فائدہ پہنچانے کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کو فروغ دے رہی ہے، تاکہ نجی شعبے کی مہارت اور سرمایہ کاری کو استعمال میں لا کر اس شعبے کو تیزی سے ترقی دی جا سکے۔
اجلاس میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دودھ کی سپلائی چین کو بہتر بنانے، کولڈ اسٹوریج سسٹم کو مضبوط کرنے اور کسانوں کو جدید تربیت فراہم کرنے کیلئے مربوط حکمت عملی تیار کی جائے۔ حکام کے مطابق اس سلسلے میں جدید ڈیٹا سسٹمز اور سمارٹ ایگری کلچر کے طریقوں کو بھی متعارف کرانے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت ایسے منصوبوں پر بھی غور کر رہی ہے جن کے ذریعے دیہی علاقوں میں چھوٹے کسانوں کو آسان قرضے، ویٹرنری سہولیات اور جدید آلات فراہم کیے جائیں، تاکہ وہ اپنی پیداوار میں اضافہ کر سکیں اور بہتر معیار کا دودھ مارکیٹ تک پہنچا سکیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ’سفید انقلاب‘ طرز کے اقدامات مؤثر انداز میں نافذ کیے گئے تو پنجاب نہ صرف ملک میں ڈیری پیداوار کا مرکز بن سکتا ہے بلکہ برآمدات میں بھی اضافہ ممکن ہو سکے گا۔
اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ حکومت اور نجی شعبہ مل کر ایک جامع روڈ میپ تیار کریں گے، جس کے ذریعے ڈیری اور لائیو اسٹاک کے شعبے کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دی جا سکے۔







