ترجمان پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی کے مطابق یہ منصوبہ پی ایچ اے لاہور کے تحت مکمل کیا جائے گا جس کے لیے 664  کنال اراضی مختص کی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت تین کنال سے آٹھ کنال تک کے سائز کی 30 سائٹس کی نشاندہی کی گئی ہے۔

منصوبے میں ریلوے ٹریک کے ساتھ پارک، جاگنگ ٹریک، اوپن جم، پیدل چلنے کے راستے، بیٹھنے کی جگہیں، بچوں کے کھیلنے کے علاقے، باونڈری فینسز اور بیڈمنٹن کورٹ شامل ہوں گے۔


منصوبے کو چار مرحلوں میں مکمل کیا جائے گا۔ پہلا مرحلہ شاہدرہ سے ریلوے اسٹیشن، دوسرا مرحلہ ریلوے اسٹیشن سے والٹن، تیسرا مرحلہ والٹن سے کوٹ لکھپت اور چوتھا مرحلہ کوٹ لکھپت سے رائیونڈ اسٹیشن تک ہوگا۔

یہ منصوبہ سنہ 2018 سے بجٹ میں شامل تھا تاہم مختلف وجوہات کی بنا پر اس پر عملدرآمد شروع نہ ہو سکا۔ حالیہ دنوں میں محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات نے اس منصوبے کے ڈیزائن اور فنڈز کی منظوری دے دی ہے۔

ذرائع کے مطابق یہ پی ایچ اے لاہور کا واحد میگا پراجیکٹ ہوگا جو موجودہ حالات میں شروع کیا جا رہا ہے اور اس کی تکمیل آئندہ دو برسوں میں متوقع ہے۔

واضع رہے کہ حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کا مقصد ریلوے ٹریک کے ساتھ موجود اراضی کو بہتر طریقے سے استعمال میں لاتے ہوئے شہریوں کو سبز اور صحت مند ماحول فراہم کرنا ہے۔