جمعرات کو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ سے جاری بیان کے مطابق یہ ملاقات امیری دیوان میں ہوئی جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ اس موقع پر امیرِ قطر نے وزیراعظم اور ان کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی مکالمے کے فروغ میں پاکستان کے کردار کو سراہا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں قطر اور دیگر خلیجی ممالک پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، عالمی سطح پر ہم آہنگی بڑھانے اور توانائی کی ترسیل کے تسلسل کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کا بھی جائزہ لیا گیا، خاص طور پر سکیورٹی، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا تاکہ شراکت داری کو مضبوط بنایا جا سکے اور نئے مواقع پیدا ہوں۔

قطری وفد میں شیخ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم آل ثانی (وزیراعظم و وزیر خارجہ)، عبداللہ بن محمد الخلیفی اور دیگر اعلیٰ حکام شامل تھے۔ پاکستانی وفد میں محمد اسحاق ڈار (نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ)، عطاء اللہ تارڑ، سید طارق فاطمی اور دیگر اعلیٰ حکام شریک تھے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کو سعودی عرب سے 2 ارب ڈالرز موصول ہوگئے

بعد ازاں دونوں رہنماؤں کے درمیان ون آن ون ملاقات بھی ہوئی، جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور خطے کی بدلتی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی گئی، جب کہ مسلسل رابطے اور مشاورت جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔

ملاقات کے اختتام پر امیرِ قطر نے وزیراعظم اور ان کے وفد کے اعزاز میں ظہرانہ بھی دیا۔