ادارہ نور حق میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے منعم ظفر خان کا کہنا تھا کہ کراچی کا انفراسٹرکچر برباد ہو چکا ہے، واٹر کارپوریشن کی ناکامی سب کے سامنے ہے، شہری روزانہ حادثات کا شکار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کا کوئی منصوبہ مقررہ وقت پر مکمل نہیں ہوتا، کریم آباد انڈر پاس تاحال نامکمل ہے، ملیر چوک سے ٹینک چوک تک سڑکیں کھنڈر بن چکی ہیں، گلستانِ جوہر میں انڈر پاس کے نام پر شہریوں کو پریشان کیا جا رہا ہے، جب کہ جہانگیر روڈ کی حالت بھی حکومتی نااہلی کا پردہ چاک کرتی ہے۔

امیر جماعتِ اسلامی نے کہا کہ حکمران نہ شہریوں کی سنتے ہیں نہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیتے ہیں، 18ویں ترمیم کے بعد بجٹ 8 گنا بڑھا، مگر کراچی آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں 2018 میں تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ مئیر کراچی کے 60 دن کے ترقیاتی دعوے تاحال شروع نہیں ہوئے۔ کے ایم سی نے کے الیکٹرک کے بلوں میں ٹیکس لگا کر 4 ارب روپے سے زائد وصول کیے، جب کہ واٹر کارپوریشن کے ماتحت گٹروں میں گر کر 24 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

منعم ظفر خان نے کہا کہ شہریوں کے لیے بسوں کے صرف اعلانات ہو رہے ہیں، نہ نئی بسیں آ رہی ہیں نہ منصوبے مکمل ہونے کا نام لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں شہری موٹر سائیکلوں پر سفر کرتے ہیں، مگر 250 سے زائد افراد ہیوی ٹریفک کی زد میں آ کر جان سے گئے اور کوئی پوچھنے والا نہیں۔