سرکاری ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی ایران روانہ ہونے کا امکان رکھتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور دورے کے شیڈول کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی وفد ایرانی قیادت سے ملاقاتیں بھی کر سکتا ہے، جن میں باہمی تعلقات، خطے کی مجموعی صورتحال اور دوطرفہ تعاون کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔ تاہم دورے کے حتمی پروگرام کا باضابطہ اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی الوداعی تقریبات 4 اور 5 جولائی کو منعقد ہوں گی، جبکہ 6 جولائی کو تہران میں مرکزی نماز جنازہ ادا کیے جانے کا پروگرام ہے۔ اس کے بعد 7 جولائی کو مقدس شہر قم میں بھی نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین 9 جولائی کو مشہد میں روضہ امام رضا کے احاطے میں کی جائے گی، جہاں لاکھوں افراد کی شرکت متوقع ہے۔ آخری رسومات کے سلسلے میں ایران بھر میں خصوصی انتظامات کیے جا رہے ہیں جبکہ مختلف ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ حکومتی شخصیات کی شرکت کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ایران روانگی اور وفد کی تشکیل سے متعلق حتمی اعلان حکومتِ پاکستان کی جانب سے باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔