کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاک فوج نے اپنی سے کئی گنا بڑی انڈین فوج کے عزائم کو خاک میں ملایا۔ ہم اس بیانیے کے خلاف ہیں کہ پاکستان اور فوج کے درمیان کوئی فاصلہ موجود ہے۔ ہمیں اس فوج اور اس کے سربراہ پر فخر اور احترام ہے۔
انہوں نے کہا کہ شکر کریں کہ فوج صرف پریس کانفرنس کر کے جواب دے رہی ہے، ورنہ اس سے کہیں کم گناہوں پر مائیں اپنے بچوں کو ڈھونڈتی رہی ہیں۔ اتنے ناپاک الزامات کے باوجود فوج صرف بات کر رہی ہے۔ خدا نہ کرے کہ جو ہمارے ساتھ ہوا وہ آپ کے ساتھ ہو۔ ہم کراچی کے رہنے والے ہیں، 40 سالوں میں سب کچھ برداشت کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم بھی بند کمروں میں گلہ شکوہ کرتے ہیں، لیکن ہم نے کبھی ملک کی سالمیت کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ ہم ہر صحیح بات کی تائید اور ہر غلط بات کی تردید کریں گے۔ پی ٹی آئی کے دوستوں سے گزارش ہے کہ اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی فوجی جنرل ان کی مرضی کے مطابق کام کرے تو وہ ٹھیک، ورنہ غلط؟ یہ رویہ افسوسناک ہے۔ یہ ممکن نہیں کہ ملک صرف اسی وقت آگے بڑھے جب آپ وزیر اعظم ہوں۔ یہ معاملہ درست نہیں۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ یہ فوج کسی ایک جماعت کی نہیں بلکہ پوری قوم کی فوج ہے۔ یہی فوج تھی جو اپنے سے آٹھ گنا بڑی طاقت کے سامنے سینہ سپر ہوئی۔ اس نے خطے میں انڈیا کی بالادستی کے خواب چکنا چور کیے اور قوم کے سر کو فخر سے بلند کیا۔ پاکستان کی عزت میں اضافے کے لیے اللہ نے فوج سے کام لیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی اور اس کے سربراہ قومی فوج اور اس کی قیادت کو دنیا بھر میں بدنام کر رہے ہیں۔ پی ٹی آئی فوج کے حوصلے پست کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایم کیو ایم پاکستان اس بیانیے کے خلاف ہے کہ فوج اور عوام کے درمیان کوئی خلیج موجود ہے۔
ایم کیو ایم کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ تحریک انصاف کا بیانیہ قومی سلامتی کے خلاف ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے درست کہا تھا کہ بانی تحریک انصاف ذہنی مریض ہیں۔






