نجی نشریاتی ادارے کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ پیٹرول لیوی 28 سے 30 فیصد ہے، حکومت سبسڈی دینے کے بجائے پیٹرولیم لیوی ہی کم کرسکتی تھی۔

انہوں نے کہا کہ شہریوں کو موبائل میسج کرکے پیٹرول پمپ جانا ہوگا، اس کے بعد حکومت نے اپنی دیہاڑی بھی بنانی ہے۔ پیٹرول کی قیمتیں بڑھانے کے بجائے حکومت کو اپنے اخراجات کم کرنے چاہئیں۔

سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پیٹرول پر لیوی ہونی چاہیے، تاہم یہ اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔

مفتاح اسماعیل نے کہا کہ اس سال ریفائنری کا منافع زیادہ سے زیادہ 155 فیصد تک بڑھا دیا گیا، سب نے اس بحران میں فائدہ اٹھایا، لیکن حکومت کے اخراجات کم نہیں ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ اگر حکومت سبسڈی کے معاملے پر آئی ایم ایف سے بات کرے گی تو جواب ملے گا کہ اس سے خسارہ بڑھ جائے گا، یا پھر حکومت اپنے اخراجات کم کرے۔

واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرول سبسڈی ریلیف حاصل کرنے کے لیے رجسٹریشن میں درکار ایس ایم ایس سروس مفت کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا، جس میں انہوں نے ہدایت کی کہ پیٹرول سبسڈی ریلیف کے لیے درکار ایس ایم ایس سروس کو عوام کے لیے مفت کیا جائے۔

حکومت کی جانب سے موٹرسائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے مالکان کو فیول سبسڈی فراہم کی جائے گی۔

حکام کے مطابق اسلام آباد میں فیول سبسڈی اسکیم 14 اور 15 ستمبر کی درمیانی شب شروع کردی جائے گی۔