پاکستان میٹرز کے نامہ نگار عاصم ارشاد سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان نے دعویٰ کیا کہ 27 ستمبر کو خیبرپختونخوا سے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی قیادت میں قافلہ پشاور سے اسلام آباد روانہ ہوگا، جب کہ پنجاب، سندھ اور دیگر علاقوں سے بھی بڑی تعداد میں کارکن لانگ مارچ میں شریک ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ اس بار ہم انہیں ڈیوائیڈ کریں گے، انگیج کریں گے اور خیبرپختونخوا کا قافلہ ہر صورت اسلام آباد میں داخل ہوگا۔

عمران خان کی رہائی کے مطالبے اور حکومت سے مذاکرات کے امکانات سے متعلق سوال پر شفیع جان نے کہا کہ مذاکرات کا وقت گزر چکا ہے اور لانگ مارچ کی تیاری مکمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ 16 ستمبر کو توہینِ عدالت کی کارروائی بھی ہے، جب کہ پی ٹی آئی کے دو بنیادی مطالبات عمران خان کی منتقلی اور ان کے مقدمات سے متعلق ہیں۔ اب سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے اور امید ہے کہ عدالت انصاف کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔

شفیع جان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے لیے یہ ایک ’ٹیسٹ کیس‘ ہے اور پارٹی اپنے تمام معاملات عدالت کے سامنے رکھے گی۔

26 نومبر کے احتجاج کا حوالہ دیتے ہوئے شفیع جان نے کہا کہ پی ٹی آئی کارکن سیاسی ورکرز ہیں، ملٹری نہیں اور انہوں نے ریاستی کارروائی کا سامنا کیا۔ ہم گولیوں کے سامنے کھڑے رہیں گے اور دعویٰ کیا کہ 26 نومبر کو مظاہرین پر براہِ راست فائرنگ کی گئی۔

شفیع جان نے کہا کہ لانگ مارچ میں دھرنے کے دوران خیبرپختونخوا کے قافلے کی قیادت کرنے والے رہنما آخری شخص تک موجود رہیں گے۔

اسما بخاری کے خلاف اپنے سخت بیان سے متعلق سوال پر شفیع جان نے کہا کہ خیبرپختونخوا نے دہشت گردی کے خلاف طویل عرصے تک قربانیاں دی ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبرپختونخوا کے عوام نے ہزاروں جانوں کی قربانیاں دیں اور اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کیا۔

شفیع جان نے کہا کہ اگر اسما بخاری، بشریٰ بی بی اور علیمہ خان سے متعلق اپنے بیانات پر معافی مانگیں تو وہ بھی اپنے الفاظ واپس لینے کے لیے تیار ہیں۔

مزید پڑھیں: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کو لاہور مال روڈ سے پولیس تحویل میں لے کر لکشمی چوک چھوڑ دیا گیا

جماعت اسلامی کے پیٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج اور دھرنے سے متعلق سوال پر شفیع جان نے کہا کہ پی ٹی آئی ہر اس سیاسی قوت سے بات کرے گی جو موجودہ حکومت سے چھٹکارا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں اور پی ٹی آئی جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی، مذہبی جماعتوں اور دیگر سیاسی قوتوں سے رابطے میں ہے۔

شفیع جان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان سے بھی رابطہ ہے جب کہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن اتحاد بن چکا ہے، جسے اب سڑکوں پر بھی متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت جا رہی ہے، ان کے دن گنے جا چکے ہیں۔