قطری نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پیر کو کینساس سٹی میں انتخابی ریلی سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکی حکومت یمن کے حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے۔
جے ڈی وینس نے حوثیوں کے ساتھ رابطے کی تصدیق تو کی، تاہم بات چیت کی نوعیت، مقام یا مذاکرات میں شامل افراد کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکا سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور خطے میں صورت حال سے متاثر ہونے والے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مسلسل رابطے میں ہے۔
امریکی نائب صدر نے خاص طور پر میون جزیرے پر حوثیوں کے قبضے پر تشویش کا اظہار کیا۔ میون جزیرہ آبنائے باب المندب کے قریب واقع ہے اور بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والے اہم سمندری راستے کے حوالے سے جغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔
یمن کی صورت حال پر گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہا کہ امریکا حوثیوں سے براہِ راست بات چیت کر رہا ہے اور واشنگٹن ایسے اقدامات پر غور کر رہا ہے جو امریکی عوام کے مفاد میں درست سمجھے جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ یمن میں حوثی جنگجوؤں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے موخا اور باب المندب کے اطراف اہم علاقوں اور جزائر پر اپنی گرفت مضبوط کرلی ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق سعودی عرب حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں امریکا سے مدد کا خواہاں ہے۔ رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران حوثیوں کے خلاف براہِ راست فضائی حملوں اور سعودی فوجی کارروائیوں میں معاونت کی درخواست کی تھی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور پینٹاگون کی جانب سے یہ مؤقف سامنے آیا کہ امریکا حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائیوں میں براہِ راست شامل نہیں ہوگا، البتہ سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف کی نشاندہی سے متعلق معلومات فراہم کی جائیں گی۔
اس گفتگو کے بعد امریکی فوجی کمانڈ سینٹاکام کے سربراہ فوری دورے پر سعودی عرب پہنچے، جہاں انہوں نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے خصوصی ملاقات کی۔ ملاقات میں حوثیوں کے حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال اور خطے میں ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
یوں ایک جانب امریکا حوثیوں کے ساتھ براہِ راست رابطے میں ہے تو دوسری جانب سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر علاقائی اتحادیوں سے بھی حوثیوں کے خلاف ممکنہ کارروائی، اہداف کے تعین اور انٹیلی جنس سے متعلق امور پر بات چیت جاری ہے۔
ایران کے خلاف جنگ کے بعد یمن میں حوثیوں کی سرگرمیوں کا معاملہ امریکا کے لیے مزید اہم ہوگیا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب ایران تنازع کے باعث امریکی اور عالمی معیشت پر اقتصادی دباؤ بھی بڑھا ہے۔
تاحال حوثیوں کی جانب سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس دعوے کی تردید یا تصدیق سامنے نہیں آئی۔







