یہ فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے پیر کو جاری کیا۔
اسلام آباد پولیس نے تھانہ کوہسار کے مقدمے میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کی استدعا کی تھی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے جن پی ٹی آئی رہنماؤں کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم دیا ہے، ان میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی بھی شامل ہیں۔
دیگر رہنماؤں میں ارکان قومی اسمبلی اسد قیصر، جنید اکبر، شاہد خٹک اور شہرام ترکئی کے نام شامل ہیں۔
فہرست میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان، شیر علی ارباب، محمد اقبال آفریدی، شاہ احد، ڈاکٹر امجد علی اور زبیر وزیر بھی شامل ہیں۔
عدالت نے ارشد عمر زئی، زر عالم، میاں عمر، اختر خان، ہمایوں خان، ریاض خان، عبدالکبیر خان اور طفیل انجم کے پاسپورٹ بلاک کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔
آصف محسود، عجب گل، محمد عثمان، بابر سلیم سواتی، عرفان سلیم، ایڈووکیٹ علی زمان اور ملک شہاب کے نام بھی اسی فہرست کا حصہ ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے کہا کہ دستیاب ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزمان اس مقدمے میں نامزد ہیں اور تفتیشی افسر کے مطابق ملزمان قانونی عمل سے بچنے کے لیے ملک سے فرار ہوسکتے ہیں۔
عدالت نے تفتیشی افسر کی جانب سے ملزمان کے پاسپورٹ بلاک کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ آئندہ احکامات تک ان افراد کے پاسپورٹ بلاک کردیے جائیں۔
عدالت نے کہا کہ ملزمان پر ریاستی اداروں پر حملے اور دہشت گردی کے فروغ جیسے سنگین الزامات ہیں جبکہ ملزمان عدالت کے روبرو پیش ہونے میں بھی ناکام رہے ہیں۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے فیصلے میں کہا کہ جن ملزمان نے عبوری ضمانت حاصل کی، وہ بھی مقدمے میں شامل تفتیش نہیں ہوئے۔
دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کے ممکنہ احتجاج اور لانگ مارچ سے متعلق درخواست پیر کو نمٹادی۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو عوامی سڑکوں، شاہراہوں یا دیگر مقامات پر قبضے کا قانونی حق نہیں، جبکہ کسی سیاسی جماعت یا رہنما کو شہریوں کی آزادانہ نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کا بھی اختیار نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے صوبائی حکومتوں کو ہدایت کی کہ مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری وسائل استعمال نہ ہونے دیے جائیں۔
عدالت نے واضح کیا کہ مارچ، جلوس یا ریلی کے لیے سرکاری گاڑیاں، مشینری یا دیگر سرکاری سامان استعمال نہیں کیا جاسکتا اور کسی سرکاری ملازم کو احتجاج، مارچ یا ریلی میں شرکت پر مجبور نہیں کیا جائے گا۔
عدالت نے چیف سیکریٹریز، آئی جیز پولیس، وفاقی سیکریٹری داخلہ، چیف کمشنر اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو عدالتی ہدایات پر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا کہ کسی سیاسی جماعت یا پبلک آفس ہولڈر کے پاس اسلام آباد کی سڑکیں بند کرنے کا اختیار نہیں۔







