'پاکستان میٹرز' کے نامہ نگار عاصم ارشاد کے مطابق پولیس نے سہیل آفریدی کو مال روڈ سے اپنی تحویل میں لیا اور انہیں کچھ دیر بعد لکشمی چوک پر چھوڑ دیا، تاہم ان کی حراست کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
اس سے قبل لاہور کے مال روڈ ریگل چوک پر پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاری کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے قیدیوں کی گاڑی روک لی۔ انہوں نے کہا کہ جب تک گرفتار کارکنوں کو رہا نہیں کیا جاتا، وہ قیدیوں کی گاڑی کو آگے نہیں جانے دیں گے۔
ریگل چوک پر گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز سے کارکنوں کی گرفتاری اور مبینہ بدسلوکی پر قوم سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ پنجاب پولیس پی ٹی آئی کارکنوں کو گرفتار کر رہی ہے، ان کے ارکان اسمبلی کے ساتھ بدسلوکی کی جا رہی ہے جب کہ وہ خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ ہیں اور ان کے ساتھ بھی ناروا رویہ اختیار کیا گیا۔
وزیرِاعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ایک صوبے کے منتخب وزیراعلیٰ کے ساتھ اس طرح کا رویہ قابل قبول نہیں، وہ اس معاملے پر بھرپور احتجاج کریں گے۔
انہوں نے مریم نواز کے بعض سابقہ بیانات پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت صوبوں کے درمیان تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے کبھی وفاقی وزرا یا پنجاب کے وزرا کا راستہ نہیں روکا، نہ ان کے لیے سڑکیں بند کیں۔ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز اس رویے پر عوامی طور پر معافی مانگیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب پولیس کی جانب سے کارکنوں کی گرفتاری اور میرے ساتھ مبینہ بدسلوکی کے معاملے پر پارٹی خاموش نہیں رہے گی۔ یہ پاکستان کو تقسیم کرنے کی سازش ہے، لیکن ہم کسی کو پاکستان توڑنے نہیں دیں گے۔ پنجاب کی عوام بھی میری ہے، میں پنجاب کا ہوں۔
واضح رہے کہ سہیل آفریدی اس سے قبل لاہور آمد کے موقع پر سیکیورٹی پروٹوکول کے لیے سڑک بند کیے جانے پر پنجاب پولیس سے روٹ کھولنے کا مطالبہ کر چکے ہیں۔
مزید پڑھیں: ہم تاتاری نہیں، اسلام آباد فتح کرنے نہیں، حق مانگنے آرہے ہیں؛ بیرسٹر گوہر
وزیراعلیٰ نے پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی تھی کہ ان کی آمد کی وجہ سے عوام کے لیے سڑکیں بند نہ کی جائیں، جب کہ روٹ نہ کھولے جانے پر وہ سڑک پر بیٹھ گئے تھے اور کہا تھا کہ پہلے میری عوام جائے گی، اس کے بعد میں جاؤں گا۔
بعد ازاں سہیل آفریدی لاہور میں شہید کارکن اشتیاق کے گھر بھی گئے تھے۔ کلر کہار ریسٹ ایریا پہنچنے پر انہوں نے اپنی سیکیورٹی پر مامور پنجاب پولیس کے اہلکاروں کو بھی واپس جانے کی ہدایت کی تھی۔
حراست سے متعلق مزید تفصیلات تاحال سامنے نہیں آسکیں، جب کہ متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ مؤقف کا انتظار ہے۔







