پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق شمالی وزیرستان کے علاقے عیشام کے بالمقابل ایک گروہ پاکستان افغانستان سرحد کے راستے دراندازی کی کوشش کر رہا تھا، جس کی نقل و حرکت سیکیورٹی فورسز نے بروقت نوٹ کر کے مؤثر انداز میں نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں دو خارجی ہلاک ہوئے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک شدگان میں سے ایک کی شناخت افغان شہری قاسم کے طور پر ہوئی، جو مبینہ طور پر افغان بارڈر پولیس میں خدمات انجام دے رہا تھا۔

اسی روز ضلع ٹانک میں خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی ایک اور کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے فتنۃ الخوارج کے ایک اور خارجی کو بھی ہلاک کیا، جس کی شناخت اکرام الدین عرف ابو دجانہ کے نام سے ہوئی جو مبینہ طور پر افغان شہری تھا۔

آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ یہ واقعات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ کچھ افغان شہری اب بھی پاکستان کے اندر معصوم شہریوں اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

 اسی تناظر میں پاکستان نے متعدد بار عبوری افغان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرحدی نگرانی مؤثر بنائے تاکہ افغان سرزمین کو دہشت گردی یا خوارج کی پناہ گاہ بننے سے روکا جا سکے۔

پاک فوج کے ترجمان ادارے نے مزید کہا کہ سیکیورٹی فورسز ملک کی سرحدوں کے دفاع کے حوالے سے عزمِ استحکام پر پختہ ہیں اور شمالی وزیرستان و ٹانک میں جہاں خوارج کو ہلاک کیا گیا، وہاں کسی بھی انڈین سرپرستی یافتہ خارجی عنصر کو ختم کرنے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری رکھا جائے گا۔

آئی ایس پی آر کے مطابق وفاقی اپیکس کمیٹی برائے نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے جاری آپریشنل وژن عزمِ استحکام کے تحت سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے خلاف بھرپور اور بے رحم مہم جاری رکھیں گے تاکہ ملک سے غیر ملکی پشت پناہی یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔