فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے منگل کو جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ کارروائی شمالی وزیرستان کے علاقے شیوا میں 17 مئی سے جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق سکیورٹی فورسز کو علاقے میں ’خوارج‘ کی موجودگی سے متعلق مصدقہ انٹیلیجنس اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد آپریشن شروع کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز اور مسلح افراد کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
فوج کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر انداز میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں بھارت کے حمایت یافتہ ’فتنہ الخوارج‘ سے تعلق رکھنے والے 22 عسکریت پسند مارے گئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے افراد کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔
بیان کے مطابق یہ مسلح عناصر علاقے میں دہشت گردی کی مختلف کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔
فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے مزید کہا کہ دستیاب شواہد سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ عسکریت پسندوں نے محفوظ راستہ حاصل کرنے کے لیے مقامی آبادی کو دھمکایا اور انہیں ’انسانی ڈھال‘ کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔
آئی ایس پی آر نے اس عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے گھناؤنے اقدامات اور شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے کا کوئی جواز نہیں دیا جا سکتا۔
بیان کے مطابق شیوا اور اس سے ملحقہ علاقوں کو مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا گیا ہے جبکہ روپوش عسکریت پسندوں کے خاتمے کے لیے سرچ آپریشن بدستور جاری ہے۔
فوج نے اس عزم کا اعادہ بھی کیا کہ قومی ایکشن پلان کی وفاقی اپیکس کمیٹی کے منظور کردہ وژن ’عزمِ استحکام‘ کے تحت دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں پوری شدت سے جاری رکھی جائیں گی تاکہ ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔







