نجی نشریاتی ادارے ڈان نیوز کے مطابق سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والے خوارج میں ایک کا تعلق افغان طالبان سے ہے، جب کہ مزید 2 خوارج کے مارے جانے اور 4 سے 5 کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔
علاقے میں سیکیورٹی فورسز کا سرچ اور سینیٹائزیشن آپریشن جاری ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔
مزید پڑھیں: پشاور، سی ٹی ڈی تھانے میں رکھا پرانا بارودی مواد پھٹنے سے دھماکا، اہلکار شہید، 2 زخمی
دوسری جانب خیبرپختونخوا کے ضلع ہنگو کے علاقے دوآبہ میں پولیس قافلے پر آئی ای ڈی حملے کے نتیجے میں ایس ایچ او سمیت 3 اہلکار زخمی ہو گئے۔
پولیس کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب پولیس افسران سرچ آپریشن سے واپس آ رہے تھے۔ زخمیوں میں ایس ایچ او تھانہ دوآبہ عمران الدین شامل ہیں جنہیں دیگر اہلکاروں کے ساتھ ڈی ایچ کیو ہسپتال ہنگو منتقل کر دیا گیا۔
واقعے کے بعد پولیس کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی، علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا، جب کہ سیکیورٹی فورسز نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
واضح رہے کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں اس وقت نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جب سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے نومبر 2022 میں حکومت سے جنگ بندی معاہدہ ختم کیا تھا۔ اس کے بعد سے ٹی ٹی پی نے سیکیورٹی فورسز، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملے بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔







