سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائیاں پلنگ زئی، ندیم کوٹ اور کوٹ خضری کے علاقوں میں کی گئیں، جہاں دہشتگردوں کی موجودگی سے متعلق خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔ اطلاعات کی بنیاد پر سیکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران فتنہ الخوارج کے 9 دہشتگرد ہلاک ہوئے، جبکہ کارروائی کے بعد ہلاک دہشتگردوں کے قبضے سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران دہشتگردوں کے متعدد ٹھکانے بھی تباہ کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ٹھکانوں کو دہشتگردی کی سرگرمیوں، سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیوں اور دیگر تخریبی سرگرمیوں کے لیے استعمال کیے جانے کی اطلاعات تھیں۔

ذرائع کے مطابق کارروائی میں دہشتگردوں کے ممکنہ نیٹ ورک اور ان کے خفیہ ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ علاقے میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے کلیئرنس اور نگرانی کا عمل بھی جاری رکھا گیا۔

دوسری جانب پاکستان نے افغانستان میں بھی دہشتگردوں کے خلاف فضائی کارروائی کی ہے، جس میں فتنہ الخوارج سے وابستہ متعدد دہشتگردوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ تاہم اس کارروائی سے متعلق مزید تفصیلات متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کیے جانے کا انتظار ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پلنگ زئی، ندیم کوٹ اور کوٹ خضری میں مؤثر کارروائیاں کی گئیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رہے گا اور دہشتگردوں کو اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں پائیدار امن کے قیام کے لیے سیکیورٹی فورسز کے افسران اور جوان اہم ذمہ داریاں انجام دے رہے ہیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے ریاستی ادارے مربوط انداز میں اقدامات کررہے ہیں اور ملک کے امن و استحکام کو نقصان پہنچانے کی کسی بھی کوشش کا مقابلہ کیا جائے گا۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ عزمِ استحکام وژن کے تحت دہشتگردوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائیاں جاری رہیں گی۔

محسن نقوی کے مطابق دہشتگردی کے خلاف جنگ میں سیکیورٹی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کررہے ہیں اور دہشتگرد عناصر کے خلاف کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

شمالی وزیرستان میں ہونے والی حالیہ کارروائیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں دہشتگردی کے خطرات کے پیش نظر سیکیورٹی ادارے انٹیلیجنس کی بنیاد پر آپریشنز کررہے ہیں۔ حکام کے مطابق دہشتگردوں کے خلاف کارروائیوں کا مقصد ان کے نیٹ ورک، ٹھکانوں اور معاونت کے ذرائع کو نشانہ بنانا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقوں میں سیکیورٹی اور نگرانی کے اقدامات بھی جاری ہیں، جبکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے نمٹنے کے لیے متعلقہ اداروں کو الرٹ رکھا گیا ہے۔

سیکیورٹی ذرائع کے مطابق شمالی وزیرستان میں کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کی شناخت اور ان کے نیٹ ورک سے متعلق مزید معلومات اکٹھی کی جارہی ہیں، جبکہ علاقے میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔