برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی اردو نے مقامی پولیس اور انتظامیہ کے حوالے سے بتایا کہ دھماکہ عیسوڑی نامی دیہات میں اس وقت ہوا جب بچے وہاں کھیل رہے تھے۔
ایک انتظامی افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ بچے کھیل کے دوران بارودی مواد کا گولہ لے آئے، جو پھٹنے سے دھماکہ ہوا۔
میر علی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر منیر کے مطابق ایک بچہ مردہ حالت میں ہسپتال لایا گیا، جب کہ 16 زخمیوں میں پانچ بچیاں بھی شامل تھیں۔زخمیوں کی زیادہ تر عمریں آٹھ سے بارہ سال کے درمیان تھیں۔
ڈاکٹر منیر نے بتایا کہ تین زخمیوں کی حالت تشویشناک تھی، جنہیں خلیفہ گل نواز ٹیچنگ ہسپتال بنوں منتقل کر دیا گیا ہے۔
بنوں ہسپتال کے ترجمان محمد نعمان کے مطابق وہاں آٹھ زخمی لائے گئے، جن میں ایک بچہ شدید زخموں کے باعث جانبر نہ ہو سکا۔
ڈاکٹر منیر کے مطابق زیادہ تر زخمیوں کو معمولی چوٹیں آئی تھیں اور ابتدائی طبی امداد کے بعد انہیں فارغ کر دیا گیا۔
مقامی لوگوں نے بتایا کہ علاقے میں کشیدگی کے سبب باقی زخمی بھی علاج کے لیے بنوں منتقل ہو گئے۔
اہلِ علاقہ کے مطابق میر علی میں آئے روز حملوں اور دھماکوں کے باعث بیشتر لوگ محفوظ علاقوں کو نقل مکانی کر چکے ہیں۔
علاقے میں اس نوعیت کے واقعات پہلے بھی پیش آ چکے ہیں۔
اکتوبر میں میر علی میں ایک گاڑی پر حملے میں چھ افراد جھلس کر جاں بحق ہوئے تھے۔
مئی میں اسکول جانے والے بچوں پر کواڈ کاپٹر حملے میں چار بچے شہید اور بچوں کی والدہ سمیت کئی زخمی ہوئے تھے۔
چند روز قبل سیکیورٹی فورسز نے ایک انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کے دوران سات مسلح افراد کو ہلاک کیا تھا۔
مسلسل دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ اور سیکیورٹی فورسز و عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپوں کے باعث میر علی میں حالات بدستور کشیدہ ہیں اور مقامی آبادی بڑی تعداد میں نقل مکانی کر رہی ہے۔






