خیال رہے کہ معاشی ماہرین کی جانب سے شرح سود میں اضافے کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ جنگ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور عالمی مارکیٹ میں معاشی بے یقینی کی صورتحال کو قرار دیا جا رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے فیصلے کا براہ راست اثر مہنگائی پر بھی پڑے گا کیونکہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر روزمرہ ضروریات کی چیزوں پر پڑتا ہے۔