کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل انعام میمن کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے دورے سے قبل سکیورٹی تھریٹ موجود تھا، جس سے انہیں باقاعدہ طور پر آگاہ کیا گیا اور ایک جامع سکیورٹی پلان بھی ترتیب دیا گیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود طے شدہ روٹس اور مقامات کے برعکس دورے کیے گئے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس دوران پولیس پر پتھراؤ کیا گیا، میڈیا کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا اور صحافیوں کے ساتھ بدسلوکی کے واقعات پیش آئے۔ سکیورٹی صورتحال کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے بدنظمی پیدا کی گئی اور جان بوجھ کر 9 مئی جیسی صورتحال بنانے کی کوشش کی گئی۔
سینئر وزیر نے کہا کہ اس تمام صورتحال کے باوجود حکومتِ سندھ نے انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی سیاسی رہنما کے خلاف ایف آئی آر درج نہیں کی گئی۔
سینئر وزیرِ سندھ نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا کہ سندھ حکومت نے انہیں روکا، سراسر بے بنیاد الزام ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ٹریفک میں روکنے سے سندھ حکومت کو آخر کیا فائدہ ہو سکتا تھا؟
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کو کراچی آمد پر عزت اور پروٹوکول دیا گیا، لیکن انہوں نے اس عزت کی لاج نہیں رکھی۔ ہماری شرافت کا ناجائز فائدہ اٹھایا گیا۔ 8 فروری کو کسی صورت صوبۂ سندھ میں پہیہ جام ہڑتال یا کسی بھی قسم کی ہڑتال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: دشمن کی نفسیاتی جنگ کے مقابلے کے لیے عوامی شعور اور سچائی پر مبنی بیانیہ فیصلہ کن ہتھیار ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے دورے کے دوران وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا جس عزت کے مستحق نہیں تھے، اس کے باوجود انہیں خوش آمدید کہا گیا اور سکیورٹی خدشات کے پیش نظر واضح ہدایات دی گئیں کہ کن علاقوں میں جانا ممکن نہیں، مگر ان ہدایات کو نظرانداز کیا گیا۔
شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ حکومت امن و امان پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گی اور کسی کو بھی انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔







