سماجی رابطے کی سائٹ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی فوج کا حملہ ایک اور کھلی دہشت گردی ہے۔ ایک طرف قحط، فاقے، بھوک اور انسانوں کا بہتا خون ہے اور دوسری طرف دنیا کے مختلف علاقوں سے پرامن افراد محصور اہل غزہ کے لیے امداد لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کہاں ہے امن کا پیامبر امریکا، جس کا لاڈلا اسرائیل اہل غزہ کو امداد کا تھوڑا سا سامان بھی پہنچنے دینا نہیں چاہتا؟ کیا یہی انسانیت، جمہوریت، انسانی حقوق اور بین الاقوامی قانون ہے؟

امیر جماعت اسلامی نے مسلم دنیا کے حکمرانوں کو بھی آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی محبت میں ڈوبے ہوئے مسلم حکمران کہاں ہیں؟

خیال رہے کہ اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب امداد لے جانے والے فلوٹیلا کی درجنوں کشتیوں کو روک کر سیکڑوں کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے، جن میں سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

امدادی بیڑا گلوبل صمود فلوٹیلا  کی جانب سے روانہ کیا گیا تھا، جس کا مقصد اسرائیل کے 18 سالہ محاصرے کو توڑنا اور جنگ زدہ علاقے میں خوراک، پانی اور ادویات پہنچانا تھا۔

فلوٹیلا منگل کو بارسلونا (اسپین) سے روانہ ہوا اور مختلف بحری راستوں سے دیگر جہاز اس میں شامل ہوتے گئے۔ منتظمین کے مطابق قافلے میں 500 سے زائد کارکن شریک ہیں، جن میں اسپین اور اٹلی کے ارکانِ پارلیمان کے علاوہ گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔

فلوٹیلا کے منتظمین کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے کشتیوں پر غیر قانونی حملہ کیا، اسرائیلی بحریہ نے ایک جہاز کو جان بوجھ کر ٹکر ماری، جب کہ دیگر کو واٹر کینن سے نشانہ بنایا گیا۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے مطابق بحریہ نے جہازوں کو روک کر ان کے مسافروں کو اسرائیل منتقل کردیا ہے، جہاں سے انہیں یورپ بھیجنے کی کارروائی کی جا رہی ہے، گریٹا اور ان کے ساتھی محفوظ اور خیریت سے ہیں۔

اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز نے اس کارروائی پر فوج کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ ”دہشتگرد فلوٹیلا“ کو ناکام بنا دیا گیا۔


دوسری جانب دنیا بھر میں اسرائیلی اقدام پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اٹلی، ترکی، یونان، تیونس اور ارجنٹینا میں احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

ترکی کی وزارتِ خارجہ نے اسے ” دہشت گردی کی کارروائی“قرار دیا، جب کہ کولمبیا کے صدر نے اسے ” بین الاقوامی جرم“قرار دیتے ہوئے اسرائیلی سفارتکاروں کو ملک سے نکالنے کا اعلان کیا۔

میکسیکو کی صدر نے تصدیق کی کہ ان کے چھ شہری اسرائیل کی تحویل میں ہیں اور کہا کہ امدادی کارکنوں نے کوئی جرم نہیں کیا، انہیں فوری رہا کیا جانا چاہیے۔

یاد رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب صرف چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے واشنگٹن میں غزہ کے مسئلے کے حل کے لیے ایک نیا امن منصوبہ پیش کیا تھا۔

مزید یہ کہ 2010 میں بھی اسرائیلی فورسز نے ایک امدادی فلوٹیلا پر حملہ کرکے 9 ترک کارکنان کو ہلاک کر دیا تھا، جس پر دنیا بھر میں سخت غم و غصہ ظاہر کیا گیا تھا۔