ڈان اخبار کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت نے پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گندم اور آٹے کی بین الصوبائی ترسیل پر عائد پابندیاں فوری ختم کرے، کیونکہ یہ اقدامات سپلائی چین میں رکاوٹ، قیمتوں میں اضافہ اور غذائی تحفظ کے مسائل پیدا کر رہے ہیں۔

اسی معاملے پر سندھ میں پیپلز پارٹی کی قیادت نے بھی پنجاب حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ پنجاب دانے کے ساتھ ساتھ بیج کی سپلائی کو بھی محدود کر رہا ہے۔

خیبر پختونخوا کے فوڈ سیکریٹری نے اپنے پنجاب ہم منصب کو لکھے گئے خط میں کہا کہ پابندی کا خاتمہ مارکیٹ کے استحکام، گندم کی دستیابی اور صوبے کے غذائی تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ ان کے مطابق کے پی صوبہ روزانہ تقریباً 14 ہزار 500 ٹن گندم اور آٹے کی ترسیل پر انحصار کرتا ہے، جس کی بندش نے ذخائر اور قیمتوں کو غیر مستحکم کر دیا ہے۔

کے پی کے نے اعتراف کیا کہ پنجاب نے دو ہزار ٹن آٹے کی فراہمی کی اجازت دی ہے، مگر یہ صوبے کی ضرورت کے مقابلے میں نہایت کم ہے۔ خط میں افسوس ظاہر کیا گیا کہ پنجاب کو متعدد خطوط کے باوجود پابندی ختم نہیں کی گئی، جو آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 151(1) کی خلاف ورزی ہے جو صوبوں کے درمیان آزاد تجارت کی ضمانت دیتا ہے۔

یہ معاملہ 17 اکتوبر کو وزیر اعظم شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں بھی اٹھایا گیا تھا، جہاں عبوری گندم پالیسی 2025 کے تحت گندم کی آزادانہ نقل و حرکت پر زور دیا گیا۔

کے پی فلور ملز ایسوسی ایشن نے بھی گندم کے کم ہوتے ذخائر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا کہ اگر پابندی برقرار رہی تو جلد بحران پیدا ہو سکتا ہے۔

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پنجاب حکومت کے اقدام کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بنیادی غذائی اشیا سے محروم رکھنا کسی طور قبول نہیں۔ انہوں نے فوڈ ڈیپارٹمنٹ کو ہدایت دی کہ پنجاب کو باضابطہ طور پر خط لکھ کر پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جائے۔ اجلاس میں حکام نے بتایا کہ صوبے کو سالانہ 53 لاکھ ٹن گندم اور آٹے کی ضرورت ہوتی ہے، جس میں سے صرف 15 لاکھ ٹن مقامی پیداوار سے حاصل ہوتی ہے۔

ادھر سندھ میں گندم کے بیج کی سپلائی کے معاملے پر پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے الزام عائد کیا کہ پنجاب حکومت کی ہدایت پر ایگریکلچر ریگولیٹری اتھارٹی اور فوڈ ڈیپارٹمنٹ نے سندھ کو بیج کی ترسیل روک دی ہے، جس سے گندم کی بوائی کے عمل کو خطرہ لاحق ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر بیج کی فراہمی بحال نہ کی گئی تو صوبے کی گندم پیداوار میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ نثار کھوڑو نے وزیراعظم شہباز شریف سے فوری نوٹس لینے کی اپیل کی اور کہا کہ پنجاب کا یہ رویہ سندھ کے کسانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کے مترادف ہے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت کے مطابق سندھ کے کسان اور بیج فروش پہلے ہی ادائیگیاں کر چکے ہیں، مگر پنجاب حکومت نے کمپنیوں کو ترسیل سے روک دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ اقدام صوبائی ہم آہنگی کے بجائے تنازع بڑھا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں پیپلز پارٹی نے گندم کی خریداری کے طریقہ کار پر بھی اعتراضات اٹھائے تھے، جس پر پنجاب حکومت نے سخت ردعمل دیا۔ صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے کہا کہ اگر پیپلز پارٹی قیادت نے اپنے رہنماؤں کے بیانات کا نوٹس نہ لیا تو مسلم لیگ (ن) بھی اسی لہجے میں جواب دے گی۔

سیاسی اختلافات کے اس نئے مرحلے نے صوبوں کے درمیان گندم اور بیج کے بحران کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔