وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد میں واضح کیا گیا کہ ایوان کسی بھی سازش یا اقدام کی دوٹوک مذمت اور مکمل مخالفت کرتا ہے جس کا مقصد کراچی پر مشتمل الگ صوبہ بنانا یا صوبے کی تقسیم کرنا ہو۔

قرارداد میں کہا گیا کہ ’کراچی ہمیشہ سندھ کا لازمی اور ناقابلِ تقسیم حصہ رہے گا۔‘

واضح رہے کہ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے، جب متحدہ قومی موومنٹ پاکستان (ایم کیو ایم پاکستان) کی جانب سے بارہا وفاق سے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے کراچی کو وفاقی علاقہ بنانے کی بات کی جا رہی تھی۔

قرارداد میں تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیا گیا کہ وہ ایسے بیانات یا اقدامات سے گریز کریں جو صوبائی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

قرارداد میں مزید کہا گیا کہ سندھ کی وحدت، جغرافیائی سالمیت اور تاریخی شناخت ایک امانت ہیں، جن کا دفاع آئینی، جمہوری اور سیاسی طریقوں سے کیا جائے گا۔

قرارداد میں آئین 1973 کے آرٹیکل 239 کا حوالہ بھی دیا گیا، جس کے مطابق کسی صوبائی اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کے بغیر صوبائی حدود میں تبدیلی نہیں کی جا سکتی۔

قرارداد کے مطابق کراچی کو پاکستان کی معاشی شہ رگ بنانے میں سندھ کے مختلف علاقوں کے لوگوں نے مشترکہ کردار ادا کیا، جو تقسیم نہیں بلکہ اتحاد کی علامت ہے۔

ایوان نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سندھ اسمبلی جماعتی اختلافات سے بالاتر ہو کر صوبے کی سالمیت اور وقار کے دفاع کے لیے متحد رہے گی۔

جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق اور پی ٹی آئی کے اراکین شبیر قریشی اور سجاد سومرو نے قرارداد کی حمایت کی، جب کہ ایم کیو ایم پاکستان کے ارکان نے اسے آئین سے متصادم قرار دیتے ہوئے مخالفت کی۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت ٹرمپ کی خوشنودی میں مصروف، عوام مہنگائی اور بدانتظامی کا شکارہے: حافظ نعیم الرحمان

بعد ازاں ایوان سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی کو سندھ سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی صوبائی اتحاد اور یکجہتی کے تحفظ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گی اور کراچی کو الگ صوبہ یا وفاقی علاقہ بنانے سے متعلق بیانات کی شدید مذمت کی۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے دشمن عوام کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور جو پاکستان پر یقین رکھتا ہے وہ اس قرارداد کی حمایت کرے گا۔

انہوں نے یاد دلایا کہ کسی نئے صوبے کے قیام کی صورت میں فیصلہ صرف سندھ اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کرے گی۔

وزیراعلیٰ نے مزید کہا کہ 2019 اور 1994 میں بھی سندھ اسمبلی صوبے کی تقسیم کے خلاف قراردادیں منظور کر چکی ہے اور انہوں نے مخالفین کو چیلنج دیتے ہوئے کہا کہ قرارداد میں کوئی شق آئین کے خلاف نہیں، جب کہ ایم کیو ایم پاکستان کے مؤقف کو غیر مستقل قرار دیا۔