وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران اس اسکیم کی تفصیلات جاری کیں اور شہریوں کو ہدایت کی کہ سبسڈی حاصل کرنے کے لیے اپنی موٹرسائیکل کو اپنے نام رجسٹرڈ کروائیں اور بینک اکاؤنٹ بھی اپنے نام کا ہونا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ سبسڈی کا عمل مکمل طور پر خودکار نظام کے تحت ہوگا، اور محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی ویب سائٹ پر رجسٹریشن کی جانچ پڑتال کی جا سکتی ہے،اگر کسی شہری کی موٹرسائیکل ابھی اپنے نام نہیں ہے تو اب اس کی فیس ختم کر دی گئی ہے، اور تمام ایکسائز دفاتر صبح سے رات تک کھلے رہیں گے، یہاں تک کہ ہفتہ اور اتوار کے روز بھی شہری اپنے نام پر موٹرسائیکل رجسٹر کروا سکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ میں تقریباً 6.7 ملین رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہیں، اور اپریل کے مہینے میں سبسڈی کی رقم موٹرسائیکل مالکان کے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کر دی جائے گی۔ تاہم ایک سے زیادہ موٹرسائیکل رکھنے والے افراد کو ایک ہی سبسڈی دی جائے گی۔
انہوں نے رجسٹریشن کے طریقہ کار کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ شہری اپنی شناختی کارڈ نمبر اور موٹرسائیکل رجسٹریشن نمبر ویب سائٹ پر ڈالیں، جس کے بعد موبائل پر ایک تصدیقی کوڈ آئے گا۔ اس کوڈ کے اندراج کے بعد شہری اپنے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات فراہم کریں گے، اور سبسڈی کی رقم براہِ راست بینک اکاؤنٹ میں منتقل ہو جائے گی۔
انہوں نے ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کرایوں میں اضافے کے خدشات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے تمام ٹرانسپورٹرز کو ہدایت کی ہے کہ کرایے نہ بڑھائیں۔ اگر کوئی اضافی کرایہ وصول کر رہا ہے تو یہ جرم تصور کیا جائے گا اور قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
مزید پڑھیں: پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا جائےگا، وزیراعلیٰ سندھ
انہوں نے واضح کیا کہ حکومت کا مقصد سبسڈی کو براہِ راست عوام تک پہنچانا ہے تاکہ اسے درمیانی حلقوں یا ٹرانسپورٹرز کے ذریعے محدود نہ کیا جا سک، سبسڈی کے اس طریقہ کار سے یقینی طور پر مستحق افراد کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے گا اور مالی معاونت شفاف طریقے سے فراہم ہوگی۔
اس اقدام کو ماہرین سندھ حکومت کی جانب سے عوامی فلاح اور توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے تناظر میں ایک مثبت اور شفاف اقدام قرار دے رہے ہیں، جو شہریوں کی روزمرہ کی ضروریات میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہو گا۔







